مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 441
441 مرچ پر ختم کرتا۔اسی طرح کام کرنے والوں کو بھی یہی سمجھنا چاہئے کہ کچھ نہ کچھ تو ہمارے ہاتھ آہی جائے گا۔اگر پہلی دفعہ سو میں سے ایک پڑھائی کی طرف توجہ کرے گا تو اگلی دفعہ دو ہو جائیں گے۔اس سے اگلی دفعہ چار ہو جائیں گے اور اس طرح آہستہ آہستہ بڑھتے چلے جائیں گے۔پس کام کرو اور پھر نتیجہ دیکھو۔جب دنیوی کام بے نتیجہ نہیں ہوتے تو کس طرح سمجھ لیا جائے کہ اخلاقی اور روحانی کام بغیر نتیجہ کے ہو سکتے ہیں لیکن جن کے من حرامی ہیں وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو کام کرتے ہیں لیکن نتیجہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، کہنے سے ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم نے تو اپنی طرف سے پوری محنت کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ ہم سے دشمنی نکال رہا ہے۔یہ کہنا کس قدر حماقت اور بیوقوفی کی بات ہے۔گویا اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ جو کام ہم کرتے ہیں اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ مرتب ہو تا ہے لیکن اچھے یا برے نتیجہ کا دارو مدار ہمارے اپنے کام پر ہوتا ہے۔کسی شخص نے ۱/۱۰ حصہ کسی کام کے لئے محنت کی تو قانون قدرت یہی ہے کہ اس کا ۱/۱۰ نتیجہ نکلے۔اب اس کے ۱۰/ ا حصہ نکلنے کے یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت کی وجہ سے ۱/۱۰ حصہ نتیجہ نکلا اور نہ اس نے محنت تو زیادہ کی تھی۔قانون قدرت کسی محنت کو ضائع نہیں کرتا لیکن شرارتی نفس یہ کہتا ہے کہ میں نے تو اپنا سارا فرض ادا کر دیا تھا لیکن اللہ میاں اپنا فرض ادا کرنا بھول گیا۔اس سے بڑا کفر اور کیا ہو سکتا ہے۔پس جہاں تک محنت اور کوشش کا سوال ہے نتائج ہمارے ہی اختیار میں ہیں۔اگر نتیجہ اچھا نہیں نکلتا تو سمجھ لو کہ ہمارے کام میں کوئی غلطی رہ گئی ہے۔کوشش کرنی چاہئے کہ ہر کام کے نتائج کسی معین صورت میں ہمارے سامنے آ آئندہ ریکارڈ رکھا جائے سکیں۔اگر ہمارے پاس ریکارڈ محفوظ ہو تو ہم اندازہ کر سکیں گے کہ پچھلے سال سے اس سال نمازوں میں کتنے فیصدی ترقی ہوئی۔تعلیم میں کتنے فیصدی ترقی ہوئی۔اخلاق میں کتنے فیصدی ترقی ہوئی۔کتنے خدام پچھلے سال باہر کی جماعتوں سے سالانہ اجتماع میں شمولیت کے لئے آئے اور کتنے اس سال آئے ہیں۔اسی طرح باہر کی خدام الاحمدیہ کی جماعتیں بھی اپنے ہاں ان باتوں کا ریکارڈ رکھیں کہ پچھلے سال تعلیم کتنے فیصدی تھی اور اس سال کتنے فیصدی ہے۔اخلاق میں کتنے فیصد کی ترقی ہوئی اور یہ قانون بنا دیا جائے کہ ہر جماعت یہاں اجتماع کے موقع پر اپنی رپورٹ پڑھ کر سنائے تاکہ تمہیں معلوم ہو سکے کہ تمہارا اقدم ترقی کی طرف جا رہا ہے یا تنزل کی طرف۔اس میں شبہ نہیں کہ کبھی اندازہ میں غلطی بھی ہو سکتی ہے لیکن عام طور پر اندازہ صحیح ہو تا ہے۔اگر یہ طریقہ اختیار کیا جائے تو کچھ نہ کچھ قدم ضرور ترقی کی طرف اٹھے گا۔صحیح اندازہ لگانے کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ دس فیصدی کام اس رپورٹ میں سے کم کر دیا جائے مثلاً کسی جماعت کی ترقی بارہ یا پندرہ فیصدی ہے تو اس میں سے دس فیصدی کم کرنے کے بعد ہم کہیں گے کہ اس جماعت نے دس فیصدی ترقی کی ہے۔پھر تمام جماعتوں کا آپس میں مقابلہ کیا جائے کہ تبلیغی طور پر کونسی مجلس اول ہے۔تعلیم میں کونسی مجلس اول ہے۔اخلاق کی ترقی میں کونسی مجلس اول ہے۔ہاتھوں سے کام کرنے میں کونسی مجلس اول ہے۔نمازوں کی با قاعدگی میں کونسی مجلس اول