مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 376

376 تم طاقت استعمال کر کے جڑی ہوئی اور نا فرمان پارٹی کو مفتوح کر لو۔اس پر پوری طرح غلبہ واقتدار حاصل کر لو اور تم آخر میں اپنے اور دوسروں کے حقوق کے متعلق فیصلہ کرنے لگو تو یاد رکھو اس وقت جوش میں مفتوح قوم پر اپنا غصہ مت نکالوبلکہ جس حد تک جھگڑا ہو صرف اس حد تک اپنے فیصلوں کو محدود رکھو۔یہ نہ ہو کہ جوش اور غصہ کی حالت میں تم اپنی حدود سے متجاوز ہو جاؤ اور اس پر مظالم کرنے لگ جاؤ یا کوشش کرو کہ وہ قوم اسی طرح کچلی جائے کہ آئندہ صدیوں تک تمہارے مقابلہ میں سر نہ اٹھا سکے۔تمہارا فرض ہے تم صرف جھگڑے تک اپنے فیصلوں کو محدود رکھو اور ناجائز پابندیاں نا جائز قیود اور ناجائز دباؤ مفتوح قوم پر مت ڈالو۔اگر تم ایسا کرو گے تو اس کے نتیجہ میں پھر فساد پیدا ہو گا۔پھر بد امنی پیدا ہو گی۔پھر لڑائی شروع ہو گی اور پھر دنیا کا امن برباد ہو جائے گا۔یہ اصول ہے جس کو میں نے بڑی وضاحت سے اپنی کتاب میں بیان کیا ہوا ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں جس طرح مغربی اقوام نے پہلے اصول کی خلاف ورزی کی تھی اسی طرح آج وہ اس اصول کی خلاف ورزی کے لئے تیار ہو رہی ہے۔چنانچہ اس قسم کی آواز میں اٹھنی شروع ہو گئی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے بعد جب روس بر طانیہ امریکہ اور چین سب طاقتیں مل کر دنیا میں امن قائم کریں گی تو جرمنی اور جاپان سے نہ صرف وہ تمام چیزیں لے لی جائیں گی جن پر انہوں نے غاصبانہ قبضہ کیا تھابلکہ ان کی بغاوت کی سزا کے طور پر ہمیشہ کے لئے ان کی قوت کو کچل دیا جائے گا اور انہیں انسانی حقوق سے بھی محروم کر دیا جائے گا۔ابتدائی انسانی حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ ہر شخص کو اس بات کا اختیار حاصل رہے وہ جو پیشہ اپنے لئے مناسب سمجھتا ہے، اس پیشہ کو اپنی زندگی کا جز بنالے۔اگر وہ تجارت کرنا چاہتا ہے تو تجارت کرے۔زراعت کرنا چاہے تو زراعت کرے۔صنعت و حرفت اختیار کرنا چاہتا ہے تو صنعت و حرفت اختیار کرے۔سائنس کی طرف توجہ کرنا چاہتا ہے تو سائنس کی طرف توجہ کرے۔مگر اس حق سے ہی جر منی اور جاپان کو محروم کرنے کی سکیمیں تیار ہو رہی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ان کے انڈسٹریل سکول بند کر دئیے جائیں گے - انڈسٹریل سوسائٹیاں توڑ دی جائیں گی اور ان کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ صرف زمیدارہ کریں اور ضرورت سے زائد ان کے پاس ہے ان سے خرید لیا جائے یہ وہی سلوک ہے جو ہندؤوں نے اچھوت اقوام سے روا ر کھا اور جن کی بناء پر انہوں نے مدتوں تک اچھوتوں کو سر نہ اٹھانے دیا۔گویاوہی سلوک جو ہندؤوں نے اچھوت اقوام سے کیا تھا اب خطرہ ہے کہ مغربی اقوام اپنی مفتوح قوموں سے ویسا ہی سلوک کریں اور پھر دنیا کے ایک طبقہ کو بدترین غلامی کے چکر میں پھنسادیں۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہندؤوں نے تو اچھوت اقوام سے ہزاروں سال تک فائدہ اٹھالیا۔اب ممکن ہے مغربی اقوام بھی اس طریق سے ایک لمبے عرصہ تک فائدہ اٹھائیں - ہندؤوں کی تاریخ بہت مبالغہ آمیز ہے۔اس لحاظ سے ہزاروں سال کہنا تو صحیح نہیں ہو سکتا لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں انہوں نے ڈیڑھ دو ہزار سال تک اچھوت اقوام کو اپنا ما تحت رکھا اور اس طرح ان سے فائدہ اٹھاتے رہے۔پس اس مثال کی بناء پر کوئی کہہ سکتا ہے کہ اب ممکن ہے یہ قومیں دوسر نیا