مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 375
375 کے فیصلہ کی خلاف ورزی کرے اس کے خلاف طاقت کا استعمال کر کے اسے اپنے ناجائز طریق عمل سے روک دیا جائے۔غرض میں نے وضاحت کے ساتھ اس امر کا ذکر کر دیا تھا کہ لیگ آف نیشنز اس وقت تک صحیح معنوں میں قائم نہیں ہو سکتی اور نہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتی ہے کہ جب تک اس کے ساتھ فوجی طاقت نہ ہو۔میں نے یہ اصل اپنی کتاب میں بیان کیا۔اپنے لیکچروں میں بیان کیا اور بار بار اس بات پر زور دیا مگر یورپین لوگوں کی طرف سے ہمیشہ یہی کہا گیا کہ یہ بالکل غلط ہے۔ہم تو دنیا کو لڑائی سے بچانا چاہتے ہیں اور آپ پھر ایسی تجویز پیش کر رہے ہیں جس میں فوج اور طاقت کا استعمال ضروری قرار دیا گیا۔انگلستان میں جب میرے لیکچر ہوتے تو ان کے بعد عام طور پر لوگ میں کہا کرتے کہ یہ تو وہی پرانی جنگی سپرٹ ہے جو دنیا میں پہلے سے قائم ہے۔ہمارے نزدیک یہ تجویز درست نہیں۔ہم نے لیگ کے اصول ایسے رکھتے ہیں جن میں فوجی طاقت کو استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آسکتی۔اس کے اصول میں یہی روح کام کر رہی ہے کہ فوجی طاقت سے نہیں بلکہ دوسروں کو سمجھا کر صلح اور پیار کی طرف مائل کیا جائے اور اسے بد عنوانیوں سے روکا جائے۔انسانی فطرت ایسی ہے کہ جب کسی غلط بات پر قائم ہو جائے تو خواہ اسے ہزار دفعہ کہا جائے وہ اپنی بات کو غلط تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔یورپین مدبرین نے اس وقت میری بات کو قابل اعتنانہ سمجھا مگر آج تمام مدبرین یک زبان ہو کر کہہ رہے ہیں کہ لیگ آف نیشنز کی ناکامی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس فوجی طاقت نہیں ہے۔اگر اس کے پاس فوجی طاقت ہوتی تو اس کا یہ انجام نہ ہوتا۔حالانکہ یہ وہ اصول ہے جو قرآن کریم نے آج سے پونے چودہ سو سال پہلے سے بیان کیا ہوا ہے۔قرآن کریم میں موجود ہے اور میں نے بڑی وضاحت سے آج سے کئی سال پہلے اس کا اپنی کتابوں اور لیکچروں میں ذکر کر دیا تھا اور کہہ دیا تھا کہ لیگ آف نیشنر کے ساتھ فوجی طاقت ہونا نہایت ضروری ہے۔لیکن اس وقت توجہ نہیں دی گئی جس کا نتیجہ نہایت تلخ اور افسوسناک نکلا۔اسی طرح ایک دوسری بات بھی میں نے اپنی کتاب ”احمدیت “ میں بیان کی ہوئی ہے جس کو آج میں بڑی زور سے بیان کر دیتا ہوں۔پہلی بات کے متعلق لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں اس کا علم نہیں تھا کہ آپ نے اس اصول کا ذکر کیا ہوا ہے۔اس لئے اب میں دوسری بات کو ایک دفعہ پھر وضاحت کے ساتھ بیان کر دیتا ہوں کیونکہ وہ بھی ایسی اہم ہے کہ اس ہدایت کی خلاف ورزی دنیا میں کبھی نیک نتائج پیدا نہیں کر سکتی اور ہمارے غیر ممالک کے مبلغین کو چاہئے کہ فوری طور پر اس اصل کی اشاعت شروع کر دیں تا بعد میں کوئی یہ نہ کہے کہ وقت پر ہمیں اس طرف توجہ نہیں دلائی گئی تھی۔مفتوح قوم کے حقوق کے بارے میں قرآن کریم کی تعلیم دوسر کی بات جو میں نے قرآن کریم کی روشنی میں بیان کی ہوئی ہے، یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب