مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 364

364 کھٹاکھٹ کے شور سے دوسروں کی نماز بھی خراب کرتے ہیں صرف اس لئے کہ مجلس میں اچھی جگہ مل سکے۔روحانیت کو مارنے والی باتیں (۱) نماز جلدی جلدی پڑھنا۔(۲) نماز کے وقت شور کرنا۔(۳) ذکر الہی سے غفلت برتنا حالانکہ اگر ان کی یہ خواہش ہے تو انہیں چاہئے کہ پہلے آئیں۔ایک تو پیچھے آنا۔پھر جلدی جلدی نماز ختم کرنا۔ذکر الہی نہ کرنا اور دوسروں کی نماز بھی خراب کرنا۔یہ سب روحانیت کو مارنے والی باتیں ہیں۔پھر تہجد کی عادت بھی نوجوانوں میں بہت کم ہے۔خدام کا فرض ہے کہ کوشش کریں سو فیصدی نوجوان نماز تہجد کے عادی ہوں۔یہ ان کا اصل کام ہو گا جس سے سمجھا جائے گا کہ دینی روح ہمارے نوجوانوں میں پیدا ہو گئی ہے۔قرآن کریم نے تہجد کے بارہ میں اشدوطا (المزمل) فرمایا ہے یعنی یہ نفس کو مارنے کا بڑا کارگر حربہ ہے۔پس خدام الاحمدیہ کو دیکھنا چاہئے۔کہ کتنے نوجوان با قاعدہ تہجد گزار ہیں اور کتنے بے قاعدہ ہیں۔باقاعدہ تہجد گزار وہ سمجھے جائیں گے جو سو فیصدی تہجد ادا کر میں سوائے اس کے کہ کبھی بیمار ہوں یارات کو کسی وجہ سے دیر سے سوئیں یا سفر سے واپس آئے ہوں اور صبح اٹھ نہ سکیں اور بے قاعدہ وہ سمجھے جائیں گے جو ہفتہ میں ایک دو دفعہ ہی ادا کریں۔باقاعدہ تہجد ادا کر نے کا مطلب یہ ہے کہ سو فیصدی تہجد گزار ہوں۔الا ماشاء اللہ۔سوائے ایسی کسی صورت کے کہ وہ مجبوری کی وجہ سے ادانہ کر سکیں اور خدا تعالیٰ کے حضور ایسے معذور ہوں کہ اگر فرض نماز بھی جماعت کے ساتھ ادانہ کر سکیں تو قابل معافی ہوں۔اگر یہ بات ہمارے نوجوانوں میں پیدا ہو جائے تو ان میں ایسا ملکہ پیدا ہو جائے گا کہ وہ دین کی باتوں کو سیکھ سکیں گے اور اگر یہ نہیں تو باقی صرف مشق ہی رہ جاتی ہے جو انگریز جرمن اور امریکن بھی کرتے ہیں بلکہ وہ ہمارے نوجوانوں کی نسبت زیادہ کرتے ہیں۔نوجوانوں کو محنت مشقت برداشت کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے اسی طرح دیانت ، محنت اور مشقت برداشت کرنے کی عادت بھی ہمارے نوجوانوں میں ہونی چاہئے۔ہمارے ملک میں مشقت برداشت کرنے کی عادت بہت کم ہے۔جہاں کوئی ایسا کام پیش آیا جس میں محنت اور مشقت کی ضرورت ہوتی ہے تو فورا دل چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ ہمیں سب سے زیادہ محنت اور مشقت برداشت کرنے کی عادت کی ضرورت ہے۔چار ہزار گنا زیادہ کام کرنے کی ضرورت میں نے بار بار توجہ دلائی ہے کہ دنیا میں ہماری حیثیت چار ہزار کے مقابلہ میں ایک کی ہے اور جب تک