مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 363
363۔پس اس کے لئے میں خدام کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نوجوانوں میں ذکر الہی ، نمازوں کی پابندی اور عمدگی کے ساتھ ادا کرنے اور تہجد پڑھنے کی عادت ڈالیں۔مجھے افسوس ہے کہ ابھی تک خدام میں یہ باتیں پوری طرح نظر نہیں آتیں۔نماز مغرب کے بعد بیت مبارک میں جو مجلس ہوتی ہے اس میں بعض دفعہ کوئی ایسا بھی سوال کر دیتا ہے جو عقل کے خلاف ہو تا ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ اس پر نوجوان ہنس پڑتے ہیں۔پھر میں نے دیکھا ہے کہ کھٹاکھٹ کی وجہ سے وہ نماز خراب کرنے لگ جاتے ہیں۔ابھی میں سنتیں ہی پڑھ رہا ہوتا ہوں کہ وہ نیچے سے اوپر آنے لگ جاتے ہیں اور اس طرح نماز خراب کرتے ہیں اور ان کو یہ خیال نہیں آتا کہ اس طرح شور کر کے نماز خراب نہ کریں۔نماز کو وقار اور عمدگی کے ساتھ ادا کرنا چاہئے تنظیم کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ تعلیم دی جائے اور نوجوانوں کو سمجھانا چاہئے کہ نماز بہت ضروری چیز ہے۔اسے وقار کے ساتھ اور عمدگی کے ساتھ ادا کرنا چاہئے۔اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم ابھی ایک رکعت سنتوں کی بھی پوری کر نہیں پاتے کہ وہ نماز ختم کر کے اوپر آنے لگ جاتے ہیں۔گویا ایک رکعت ختم کرنے سے بھی پہلے وہ دونوں رکعت سنتیں ادا کر لیتے ہیں اور نماز فرض کی جور کعتیں ان کی باقی ہوتی ہیں وہ بھی پوری کر لیتے ہیں۔نیچے عام طور پر وہی لوگ ہوتے ہیں جو بعد میں اگر جماعت میں شامل ہوتے ہیں اور جب تک میں آدھی سنتیں ادا کرتا ہوں وہ ساری نماز ختم کر کے اوپر آنا شروع کر دیتے ہیں اور دوسروں کے آدھی نماز ادا کرنے تک وہ سنتیں بھی ادا کر لیتے ہیں اور فرض بھی پورے کر لیتے ہیں صرف اس لئے کہ وہ آگے جگہ حاصل کر سکیں۔وہ نہ صرف اپنی نماز کو وقار اور عمدگی کے ساتھ ادا نہیں کرتے بلکہ دوسروں کی نماز بھی خراب کرتے ہیں حالانکہ اگر وہ قریب جگہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے انہیں پہلے آنا چاہئے۔نماز کو ہمیشہ آہنگی اور وقار کے ساتھ ادا کرنا چاہئے۔اسی طرح ذکر الہی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر نماز کے بعد ۳۳ دفعہ تسبیح ۳۳ دفعہ تحمید اور ۳۴ دفعہ تکبیر کہنی چاہئے۔اور جو لوگ نیچے سے اتنی جلدی اوپر چڑھنے لگتے ہیں وہ یہ ذکر بھی نہیں کرتے ہو نگے۔گویا ایک تو وہ جلدی جلدی نماز ادا کرتے اور دوسر اذکر الہی بھی نہیں کرتے اور جو لوگ مجلس میں تو آتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے ان کے آنے کا کیا فائدہ؟ کچھ مدت ہوئی ایک خطبہ میں نمازوں کو اچھی طرح ادا کرنے کی طرف میں نے توجہ دلائی تھی۔اس وقت میں نے دیکھا کہ وہ آدمی جو کسی گاؤں کے رہنے والے معلوم ہوتے تھے نماز کو بہت اچھی طرح ادا کر رہے تھے۔مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ گاؤں کے رہنے والے بھی وقار آہستگی اور عمدگی سے نماز پڑھ رہے ہیں۔گاؤں کے لوگ تو سن کر عمل کرنے لگے مگر کس قدر افسوس ہے کہ قادیان کے نوجوان اس طرف توجہ نہیں کرتے اور نماز جلدی جلدی ختم کر کے دوڑتے ہوئے اوپر آنے لگتے ہیں اور