مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 19
19 ہے کہ اگر بڑے آدمیوں کو بھی ان میں شامل ہونے کی اجازت دے دی جائے۔تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ پریذیڈنٹ بھی انہی کو بنائیں گے۔مشورے بھی انہی کے قبول کریں گے اور اس طرح اپنی عقل سے کام نہ لینے کی وجہ سے وہ خود بدھو کے بدھو رہیں گے مثلاً اگر میں کسی انجمن یا جلسہ میں شامل ہوں تو یہ قدرتی بات ہے کہ چونکہ جماعت کے اعتقاد کے مطابق خلیفتہ المسیح سے بڑا مقام اور کوئی نہیں۔اس لئے وہ کہیں گے کہ خلیفتہ المسیح کو ہی پریذیڈنٹ بنایا جائے۔نتیجہ یہ ہو گا کہ جو تربیت پریذیڈنٹی سے حاصل ہوتی ہے وہ بیچ میں ہی رہ جائے گی اور جماعت اس قسم کے تجربے سے محروم رہ جائے گی۔پس میں نے خاص طور پر انہیں یہ ہدایت دی ہے کہ جن لوگوں کی شخصیتیں نمایاں ہو چکی ہیں ان کو اپنے اندر شامل نہ کیا جائے۔تا انہیں خود کام کرنے کا موقع ملے۔ہاں دوسرے درجہ یا تیسرے درجہ کے لوگوں کو شامل کیا جا سکتا ہے تا انہیں خود کام کرنے کی مشق ہو۔اور وہ قومی کاموں کو سمجھ سکیں اور انہیں سنبھال سکیں۔چنانچہ میں نے دیکھا ہے کہ اس وقت تک انہوں نے جو کام کیا ہے ، اچھا کیا ہے اور محنت سے کیا ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر میں انہیں یہ اجازت دے دیتا کہ وہ پرانے مبلغین مثلاً مولوی ابو العطاء اللہ دته صاحب یا مولوی جلال الدین صاحب شمس اور اس قسم کے دوسرے مبلغوں کو بھی اپنے اندر شامل کرلیں تو جو اشتہارات اس وقت انہوں نے لکھے ہیں سب وہی لکھتے ، وہی اعتراضات کے جوابات دیتے اور دوسرے نوجوانوں کو کچھ بھی پتہ نہ ہو تا کہ اعتراضات کا جواب کس طرح دیا جاتا ہے۔پس میں نے انہیں ایسے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے سے روک دیا۔میں نے کہا تم مشورہ بے شک لو مگر جو کچھ لکھو وہ تم ہی لکھو۔تا تم کو اپنی زمہ داری محسوس ہو۔گو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شروع میں وہ بہت گھبرائے۔انہوں نے ادھر ادھر سے کتابیں لیں اور پڑھیں۔لوگوں سے دریافت کیا کہ فلاں بات کا کیا جواب دیں۔مضمون لکھے اور بار بار کاٹے مگر جب مضمون تیار ہو گئے اور انہوں نے شائع کئے تو وہ نہایت اعلیٰ درجہ کے تھے اور میں سمجھتا ہوں وہ دوسرے مضمونوں سے دوسرے نمبر پر نہیں ہیں۔گوان کو ایک ایک مضمون لکھنے میں بعض دفعہ مہینہ مہینہ لگ گیا اور ہمارے جیسا شخص جسے لکھنے کی مشق ہو ، شاید ویسا مضمون گھنٹے دو گھنٹے میں لکھ لیتا۔اور پھر کسی اور کی مدد کی ضرورت بھی نہ پڑتی۔مگر وہ دس بارہ آدمی ایک ایک مضمون کے لئے مہینہ مہینہ لگے رہے۔لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ جو اسلامی لٹریچر ان کی نظروں سے پوشیدہ تھاوہ ان کے سامنے آگیا اور دس بارہ نوجوانوں کو پڑھنا پڑا۔اور اس طرح ان کی معلومات میں بہت اضافہ ہوا۔یہ تو اگر اس قسم کے علمی کام یہ انجمنیں کریں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ اسلامی تاریخ کی کتابیں اسلامی تفسیر کی کتابیں ، حدیث کی کتابیں فقہ کی کتابیں ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں اور اسی طرح اور بہت سی کتب ان کے زیر نظر آجائیں گی اور انہیں اپنی ذات میں بہت بڑا علمی فائدہ حاصل ہو گا۔دوسرا فائدہ جماعت کو اس قسم کی انجمنوں سے یہ پہنچے گا کہ اسے کئی نئے مصنف اور مولف مل جائیں گے۔تیسرا فائدہ یہ ہو گا کہ نوجوانوں میں اعتماد نفس پیدا ہو گا اور انہیں یہ خیال آئے گا کہ ہم بھی کسی کام کے اہل ہیں۔اب اگر میں بڑے آدمیوں کو بھی انہیں اپنے اندر شامل کرنے کی اجازت دے دیتا تو یہ سارے فوائد جاتے رہتے۔لیکن یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ