مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 18

18 عادت کی بدولت اگلی نسل میں نیکی کا حقیقی روح کے ساتھ زندہ ہو جانے کا امکان رہتا ہے۔تو عاد تا جو نیکیاں پیدا ہو جائیں۔وہ بھی قوم کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔اور گو عادت کی وجہ سے وہ قوم اس سے خود فائدہ نہ اٹھائے مگر وہ نیکی راستہ میں برباد نہیں ہو جاتی بلکہ اگلے لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔اور ان میں سے جو فائدہ اٹھانے کے اہل ہوں۔وہ فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔اسی لئے جب کسی قوم میں تین چار نسلیں اچھی گزر جائیں اس کے معیاری اخلاق دنیا میں قائم رہتے ہیں۔مٹتے نہیں اور اگر ایک دو نسلوں میں ہی کمزوری آجائے تو وہ اخلاق راستہ میں ہی فنا ہو جاتے ہیں۔پس اگر کئی اچھی نسلیں گزر جائیں۔اور ان میں نیکیاں عادت کے طور پر پیدا ہو جائیں تو کو کوئی زمانہ ایسا آجائے کہ وہ اصل نیکی کی روح سے محروم ہو جائے مگر چونکہ اس کا ظاہر باقی ہو گا۔اس لئے بعد میں آنے والے اس سے پھر زندگی حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ نمونہ ان کے پاس موجود ہو گا۔تو اولادوں کی درستی اور اصلاح اور نوجوانوں کی درستی اور اصلاح اور عورتوں کی درستی اور اصلاح یہ نہایت ہی ضروری چیز ہے۔اگر دوست چاہتے ہیں کہ وہ تحریک جدید کو کامیاب تحریک جدید کی کامیابی کیلئے خدام الاحمدیہ کا قیام بنا ئیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ جس طرح ہر جگہ لجنات اماءاللہ قائم ہیں اسی طرح ہر جگہ نوجوانوں کی انجمنیں قائم کریں۔قادیان میں بعض نوجوانوں کے دل میں اس قسم کا خیال پیدا ہوا تو انہوں نے مجھ سے اجازت حاصل کرتے ہوئے ایک مجلس خدام الاحمدیہ کے نام سے قائم کر دی ہے۔چونکہ ایک حد تک کام میں ایک دوسرے کے ذوق کا ملنا بھی ضروری ہو تا ہے اس لئے شروع میں میں نے انہیں یہ اجازت دی ہے کہ وہ ہم ذوق لوگوں کو اپنے اندر شامل کریں۔لیکن میں نے انہیں یہ ہدایت بھی کی ہے کہ جہاں تک ان کے لئے ممکن ہو باقی لوگوں کو بھی اپنے اندر شامل کریں۔مگر میں نے اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ نوجوانوں میں کام کرنے کی روح پیدا ہو۔یہ ہدایت کی ہے کہ جو لوگ جماعت میں تقریر و تحریر میں خاص مهارت حاصل کر چکے ہوں۔ان کو اپنے اندر شامل نہ کیا جائے۔جس کی وجہ سے بعض دوستوں کو غلط فہمی بھی ہوئی ہے چنانچہ ہماری جماعت کے ایک مبلغ مجھ سے ملنے کے لئے آئے اور کہنے لگے۔کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں۔میں نے کہا میں تو ناراض نہیں۔آپ کو یہ کیونکر و ہم ہوا کہ میں ناراض ہوں۔وہ کہنے لگے مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے مجلس خدام الاحمدیہ میں میری شمولیت کی اجازت نہیں دی۔میں نے کہا یہ صرف آپ کا سوال نہیں۔جس قدر لوگ خاص مہارت رکھتے ہیں ان سب کی شمولیت کی میں نے ممانعت کی ہے۔اور اس کی وجہ یہ