مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 20

20 تصنیف کا کام ہمیشہ نہیں ہوتا اور نہ ہر شخص کر سکتا ہے۔کیونکہ ہر شخص نہ عربی میں احادیث پڑھ سکتا ہے، نہ عربی تفسیریں دیکھ سکتا ہے نہ عربی کتب کا مطالعہ کر سکتا ہے۔پس ان کے لئے اور کاموں کی بھی ضرورت ہے۔اور میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تحریک جدید کے اصول پر کام کرنے کی عادت ڈالیں۔نوجوانوں کے اخلاق کی درستی کریں۔انہیں اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی ترغیب دیں۔سادہ زندگی بسر کرنے کی تلقین کریں۔دینی علوم کے پڑھنے اور پڑھانے کی طرف توجہ کریں اور ان نوجوانوں کو اپنے ساتھ شامل کریں جو واقعہ میں کام کرنے کا شوق رکھتے ہوں۔بعض طبائع صرف چوہدری بننا چاہتی ہیں۔کام کرنے کا شوق ان میں نہیں ہو تا۔ایسوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔کیونکہ یہ لوگ صرف پریذیڈنٹ اور سیکرٹری بننا چاہتے ہیں۔اور ان کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جس دن پریذیڈنٹ یا سیکرٹری کے انتخاب کا سوال ہو فوراً آجائیں گے اور پھر کبھی شکل بھی نہیں دکھائیں گے لیکن جب دوبارہ انتخاب کا سوال ہو تو پھر اپنے پندرہ میں چیلے لے کر آجائیں گے۔جنہیں پہلے سے یہ سکھا دیں گے کہ ہمیں ووٹ دینا اور اس طرح پھر پریذیڈنٹ یا سیکرٹری بن جائیں گے اور خیال کریں گے کہ ان کی زندگی کا مقصد پورا ہو گیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ ایک جگہ ایک مجلس قائم ہوئی تو اس میں بڑا تفرقہ پیدا ہو گیا۔میں نے پوچھا کیا ہوا تو انہوں نے بتایا کہ آپس میں خوب لڑائی ہوئی ہے ایک کہتا ہے میں پریذیڈنٹ بنوں گا اور دوسرا کہتا ہے میں بنوں گا۔آپ فرماتے تھے کہ میں نے کہا تم یوں کیوں نہیں کرتے کہ ایک کو پریذیڈنٹ بنا دو دو سرے کا نام صدر رکھ دو، تیسرے کو مربی بنادو اور چوتھے کو چیئر مین قرار دے دو۔وہ یہ سنکر بڑے خوش ہوئے اور انہوں نے اسی طرح کیا۔ایک کے متعلق کہہ دیا کہ یہ مربی صاحب ہیں اور چپکے سے اس کے کان میں کہہ دیا کہ جی مربی ہی سب سے بڑا ہوتا ہے۔صدر کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔پھر دوسرے کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ آپ ہیں صدر اور دیکھئے صدر ہی سب سے بڑا ہوتا ہے کیونکہ سب سے نمایاں جگہ اس کو ملتی ہے۔مربی کا کیا ہے وہ تو گھر بیٹھا رہتا ہے۔پھر تیسرے کے پاس گئے اور کہنے لگے۔آپ ہمارے پریذیڈنٹ ہیں۔صدر تو ملاؤں قل اعوذیوں کا لفظ ہے۔آپ موجودہ زمانہ کے روشن دماغ انسانوں کی طرف دیکھئے۔وہ اپنے میں سے بہترین شخص کو پریذیڈنٹ بناتے ہیں چنانچہ ہم آپ کو اپنا پریذیڈنٹ بناتے ہیں پھر چوتھے کے پاس گئے اور کہنے لگے آپ ہمارے چیئر مین ہیں۔چنانچہ سب خوش ہو گئے۔کیونکہ انہیں کام سے کوئی غرض نہ تھی۔انہیں صرف اتنا شوق تھا کہ جب مثلا کسی ڈپٹی کمشنر کو چٹھی لکھنی پڑی تو نیچے لکھ دیا مربی مسلم ایسو سی ایشن۔دوسرے نے لکھ دیا۔چیئر مین مسلم ایسو سی ایشن۔تیسرے نے لکھ دیا صدر مسلم ایسوسی ایشن۔چوتھے نے لکھ دیا۔پریذیڈنٹ مسلم ایسوسی ایشن۔محض یہ بتانے کے لئے ہم مسلمانوں کے سردار ہیں۔ورنہ کام کچھ نہیں کرتے۔تو بعض لوگوں کو یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اس قسم کے عہدے لینے کے لئے مجالس میں شامل ہوتے ہیں۔ایسے لوگ لعنت ہوتے ہیں اپنی قوم کے لئے اور لعنت ہوتے ہیں پنے نفس کیلئے۔وہ وہی ہیں جن کے متعلق خدا تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے۔