مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 3
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 3 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ہیں اس لئے صرف کسی ایک شہر میں (دعوت الی اللہ کے ) پروگرام نہیں بنانے بلکہ سارے ملک میں بنائیں۔اس بارہ میں سب قائدین مجالس کو Active کریں اور مسلسل رابطے رکھیں اور رپورٹس لیں اور خود بھی دورہ پر جائیں۔ذاتی رابطہ رکھیں تو بہتر کام ہوگا۔حضور انور نے مہتم اشاعت کو جو خدام الاحمدیہ کا ماہانہ رسالہ ”خادم“ نکالتے ہیں ہدایت فرمائی کہ اپنے رسالہ کا آغاز قرآن کریم کی آیت اور اس کا ترجمہ اور تشریح سے کریں۔پھر اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ترجمہ اور تشریح کے ساتھ درج کریں اور اس کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی اقتباس دیا جائے۔اس کے بعد خلیفہ وقت کے خطبہ جمعہ، تقاریر سے کوئی حصہ لیا کریں۔فرمایا : مشعل راہ سے بھی اقتباس لے کر شائع کیا کریں۔مہتمم صنعت و تجارت کو حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ ایسے خدام کی فہرست تیار کریں جو بریکار ہیں اور گھروں میں بیٹھے ہیں۔ان کو کام میں Involve کریں۔کوشش کر کے ان کو کسی کام پر لگائیں۔یہ نو جوان فارمنگ شروع کریں اور مختلف نوعیت کے کام کریں۔اس غرض کے لئے آپ کے بجٹ میں کچھ رقم مخصوص ہو۔اور یہ پروگرام ہو کہ بیکار خدام کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔بیکاری ختم کئے بغیر آپ اپنے ملک کو اس لیول پر نہیں لا سکتے کہ آپ Independent ہو سکیں۔امیر امیر تر ہو رہا ہے اور غریب، غربت میں بڑھتا جارہا ہے۔آپس میں فاصلے بڑھ رہے ہیں اس لئے آپ کو اس سلسلہ میں بہت محنت کرنا ہوگی۔مہتمم اطفال کو حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ بچوں کی تربیت کی طرف بہت توجہ دیں۔جلسہ پر بچے آئے تھے لیکن نمازوں میں ان کی حالت ایسی نہیں تھی جو احمد یوں والی ہوتی ہے اس لئے ان کو نماز سکھائیں اور با قاعدہ تربیت کریں اور اطفال کی تنظیم کا حصہ بنائیں۔فرمایا اطفال کی تربیت پر بہت زیادہ توجہ دیں۔شعبہ تعلیم و تربیت کے بارہ میں حضور انور نے فرمایا کہ یہ دونوں شعبے علیحدہ علیحدہ ہیں اس لئے ان کے علیحدہ علیحدہ مہتم ہونے چاہئیں۔حضور انور نے تعلیمی کلاسز، قرآن کریم کی کلاسز اور پھر نصاب مقرر کر کے امتحان لینے کی طرف توجہ دلائی۔حضور انور نے فرمایا امتحان میں مجلس عاملہ کے تمام ممبران شامل ہوں۔تربیت کے حوالہ سے ہی حضور نے فرمایا کہ با قاعدہ سب مجالس میں تربیتی کلاسز ہونی چاہئیں۔خدام کو قرآن کریم پڑھنا سکھایا جائے۔نماز ، اس کا ترجمہ سکھایا جائے۔دینی معلومات کا علم ہو۔نمازوں کی ادائیگی کی