مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 197
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 197 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نہیں ہے۔اس بارے میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ شَاوِرُوا الْفُقَهَاءَ وَالْعَابِدِيْن کہ سمجھدار اور عبادت گزارلوگوں سے مشورہ کرو۔اس لئے جماعت میں یہ طریق رائج ہے کہ ایسے لوگ جو بظاہر نظام جماعت کے پابند بھی ہوں، مالی قربانی کرنے والے بھی ہوں، عبادتیں کرنے والے بھی ہوں وہ مرکزی شوری کے لئے اپنے میں سے نمائندے چنتے ہیں جو مجلس شوریٰ میں بیٹھ کر تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے مشورے دیتے ہیں یا دینے چاہئیں۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب {شَاوِرْهُمْ فِي الأمر } کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چہ اللہ اور اس کا رسول اس سے مستغنی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے میری اُمت کے لئے رحمت کا باعث بنایا ہے۔پس ان میں سے جو مشورہ کرے گا وہ رشد و ہدایت سے محروم نہیں رہے گا۔پس یہ مشورے امت کے لئے رحمت کا باعث ہیں اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے رُشد و ہدایت پر چلانے والے ہیں۔لیکن اس پہلی حدیث کے مطابق اگر مشورہ دینے والے اپنی عقل اور سمجھ کے ساتھ ساتھ اپنے کسی خاص کام میں مہارت کے ساتھ ساتھ عبادت گزار بھی ہوں اور نیکیوں پر قدم مارنے والے بھی ہوں، تقویٰ پر قائم ہوں تبھی ایسے مشورے ملیں گے جو قوم کے مفاد میں ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے والے ہوں گے۔اور ان مشوروں میں برکت بھی پڑے گی اور بہتر نتا ئج بھی بر آمد ہوں گے۔نمائندگان شوری کے انتخاب کے تقاضے پس یہاں ممبران جماعت پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ صرف اپنی دوستی اور رشتہ داری یا تعلق داری کی وجہ سے ہی شوری کے نمائندے منتخب نہیں کرنے بلکہ ایسے لوگ جو تقویٰ پر چلنے والے ہوں، کیونکہ تم جس ادارے کے لئے یہ نمائندگان منتخب کر کے بھجوا رہے ہو یہ بڑا مقدس ادارہ ہے اور نظام خلافت کے بعد نظام شوری کا ایک نقدس ہے۔اس لئے بظاہر سمجھدار اور نیک لوگ جو عبادت کرنے والے اور تقویٰ پر قدم مارنے والے ہوں اُن کو منتخب کرنا چاہئے اور جب ایسے لوگ چنو گے تبھی تم رحمت کے وارث بنو گے ورنہ دنیا دار لوگ تو پھر ویسے ہی اخلاق دکھا ئیں گے جیسے ایک دنیا دار دنیاوی اسمبلیوں میں ، پارلیمنٹوں میں دکھاتے