مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 196 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 196

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 196 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ جائے۔پھر اللہ پر توکل کرو اور جس بات کا فیصلہ کر لیا اس پر عمل کرو۔اس کے ساتھ ہی قرآن کریم نے اس حوالے سے اُس ماحول کی بھی نشاندہی کر دی اور ہمیں وہ طریقہ بھی بتا دیا جو جماعت کا ہونا چاہئے۔یہاں مخاطب گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن مرا دامت سے ہے۔جو آیت میں نے پڑھی ہے اس میں خاص طور پر اس زمانے میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کے بعد خلافت نے دائی طور پر قائم ہونا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو حکم دیا گیا یا جوارشاد فرمایا گیا ہے، اصل میں تو یہ جماعت کے لئے ہے اُمت کے لئے بھی ہے لیکن جماعت کے افراد کے لئے بھی ہے۔ان کو یہ یاد رکھنا چاہئے اس میں عہدیداران بھی آجاتے ہیں۔سب سے بڑا مخاطب خلیفہ وقت ہوتا ہے کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں نرمی ہے اسی طرح خلیفہ وقت کے دل میں بھی نرمی ہوتی ہے اور جب تک خلافت کا نظام علی منہاج نبوت رہے گا اور خلافت کا نظام علی منہاج نبوت کا یہ نظام اللہ تعالی کے فضل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق قائم ہو چکا ہے اور جب تک یہ نظام رہے گا خلیفہ وقت کے دل میں افراد جماعت کے لئے نرمی بھی رہے گی، انشاء اللہ تعالیٰ۔اور جیسا کہ میں نے کہا یہ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق قائم ہو گیا ہے اور یہ ایک دائمی نظام ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ سب کچھ کسی کی کوششوں سے نہیں ہوگا یا اپنی طبیعتوں میں خود بخود تبدیلی پیدا نہیں ہوگی بلکہ یہ خدا تعالیٰ کی خاص رحمت اور فضل سے ہوتا ہے اور ہوگا۔اور خلافت کا یہ نظام اور پھر جماعت کا نظام، یہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضلوں سے چلتا رہے گا۔اور افراد جماعت کا بھی خلافت کے ساتھ جو تعلق ہے وہ بھی اس نظام خلافت کے چلنے کی وجہ سے جاری رہے گا اور یہ تعلق بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہی جماعت کے افراد کے اندر پیدا کیا ہوا ہے۔خلافت سے جو جوش اور محبت جماعت کو ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے خاص فضلوں میں سے ہے۔یہ دو طرفہ بہاؤ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی وجہ سے جماعت میں قائم ہے۔یعنی خلیفہ وقت کو یہ حکم ہے کہ دین کے اہم کاموں میں امت کے لوگوں سے مشورہ لو۔نرم دل رہو اور دعا کرو۔مشورہ کن سے لینا چاہیے لوگوں کو یہ حکم ہے کہ جب مشورہ مانگا جائے تو نیک نیت ہو کر تقویٰ پر قدم مارتے ہوئے مشورہ دو۔اس لئے حکم ہے کہ جن سے مشورہ لیا جائے وہ نیک ہوں اور تقویٰ پر چلنے والے ہوں ہر ایک سے مشورہ لینے کا حکم