مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 198 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 198

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 198 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی ہیں۔پس افراد جماعت کی طرف سے اس امانت کا حق جو ان کے سپرد کی گئی ہے اس وقت ادا ہو گا جب تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنے شوری کے نمائندے منتخب کریں گے۔پاکستان میں تو اب جماعتوں کی طرف سے اس ادا ئیگی امانت کا وقت گزر چکا ہے۔کیونکہ نمائندے منتخب کر لئے ہیں آج شوری ہو رہی ہے۔لیکن جن ملکوں میں ابھی نمائندے چنے جانے ہیں ان کو یہ بات ہمیشہ مد نظر رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ {تُؤدُّوا الا منتِ إِلَى أَهْلِهَا } (سورة النساء آيت: 59) کہ امانتوں کو ان کے مستحقوں کے سپرد کرو کیونکہ وہ نمائندے خلیفہ وقت کو مشورہ دینے کے لئے چنے جاتے ہیں۔آپ اپنی جماعتوں سے نمائندے چن کے اس لئے بھیج رہے ہیں کہ خلیفہ وقت کو مشورہ دیں۔اس لحاظ سے بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔جو لوگ کھلی آنکھ سے ظاہراً نا اہل نظر آ رہے ہوں ان کو اگر آپ چنیں گے تو وہ پھر شوری کی نمائندگی کا حق بھی ادا نہیں کر سکتے۔یا ایسے لوگ جو بلا وجہ اپنی ذات کو ابھار کر سامنے آنے کا شوق رکھتے ہیں وہ بھی جب شوری میں آتے ہیں تو مشوروں سے زیادہ اپنی علمیت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔تو جماعتیں جب انتخاب کرتی ہیں تو اس بات کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ ایسے لوگوں کو نہ چنیں۔تو یہ ہے شوری کے ضمن میں ذمہ داری افراد جماعت کی کہ تقویٰ پر قائم ہوتے ہوئے اپنے نمائندگان شوری چنیں نہ کہ کسی ظاہری تعلق کی وجہ سے اور جس کو چنیں اس کے بارے میں اچھی طرح پر کھ لیں۔اس کو آپ جانتے ہوں، آپ کے علم کے مطابق اس میں سمجھ بوجھ بھی ہواور علم بھی ہو اور عبادت گزار بھی ہو۔اور تقویٰ کی راہوں پر چلنے والا بھی ہو۔نمائندگان شوری کے فرائض اب میں نمائندگان سے بھی چند باتیں کہنا چاہتا ہوں۔شوری کی نمائندگی ایک سال کے لئے ہوتی ہے۔یعنی جب شوری کا نمائندہ منتخب کیا جاتا ہے تو اس کی نمائندگی انگلی شوری تک چلتی ہے جب تک نیا انتخاب نہیں ہو جاتا۔صرف تین دن یا دو دن کے اجلاس کے لئے نہیں ہوتی۔شوریٰ کے نمائندگان کے بعض کام مستقل نوعیت کے اور عہدیداران جماعت کے معاون کی حیثیت سے کرنے والے ہوتے ہیں اس لئے مستقلاً اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔تو جیسا کہ میں نے کہا جماعت کو اپنے نمائندے ایسے لوگوں کو چنا چاہئے جوان کے نزدیک ایک تو سمجھ بوجھ رکھنے والے ہوں۔ہر میدان میں ہر ایک ماہر نہیں ہوتا، کوئی کسی معاملے میں