مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 165
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 165 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خطبه جمعه فرمودہ 16 دسمبر 2005ء سے اقتباس * معافی کے بعد پھر غلطی نہ دہرائیں پس ہم میں سے ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا ہم برائیاں کرنے کے بعد کسی غلطی کے سرزد ہونے کے بعد اس درد کے ساتھ توبہ و استغفار کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہیں؟ استغفار کے ساتھ {إِيَّاكَ نَسْتَعِين } کے مضمون کو بھی سامنے رکھتے ہیں؟ کمزوری سے اگر کوئی غلطی ہو جائے تو اس سوچ کے ساتھ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر اس سے گناہوں اور غلطیوں کی معافی مانگ رہے ہیں؟ اور پھر اس کے ساتھ اس عہد پر قائم ہونے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیسے بھی حالات ہو جائیں یہ غلطیاں نہیں دوہرائیں گے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اگر آگ میں بھی ڈالا جائے تب بھی وہ بدی نہیں کرے گا۔لیکن آگ میں ڈالنا تو علیحدہ بات ہے۔معمولی سا دنیاوی لالچ یا ذاتی مفاد بھی بعض لوگوں کو وہی غلطیاں کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔کئی لوگوں کو جب بعض غلطیوں پر جماعتی نظام کے تحت سزا ہوتی ہے، تعزیر ہوتی ہے تو معافی مانگتے ہیں۔اور معافی کے بعد پھر وہی چیز دوہراتے ہیں۔پھر سزا ہوتی ہے پھر دوبارہ وہی حرکت کر لیتے ہیں۔تو ایسے لوگوں کو تو اگر دوبارہ سزا کے بعد معافی ہو بھی جاتی ہے تو بعض دفعہ مشروط معافی ہوتی ہے۔بعض دفعہ کا رکن یا عہد یدار ہوں تو معافی تو ہوگئی لیکن عہدوں یا کام پر نہیں لگایا گیا۔اس پر خطوط کے سلسلے شروع ہو جاتے ہیں، نظام کے متعلق شکایات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔تو ایسے لوگوں کو پہلے اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر ، آپ کی بستی میں وقت گزار کر پھر بھی اگر اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو پھر ان کا معاملہ نظام جماعت سے نہیں یا خلیفہ وقت سے نہیں بلکہ خدا سے ہو الفضل اند نیشنل 6 تا 12 جنوری 2006) جاتا ہے۔۔