مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 166 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 166

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 166 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خطبہ جمعہ فرموده 23 دسمبر 2005ء سے اقتباسات * جلسہ کے کارکنان کو بیش قیمت نصائح یہاں بھارت کے رہنے والے ہیں جن میں آگے پھر قسمیں ہیں۔معاشرے اور روایات کے لحاظ سے فرق ہے۔ایک تعداد تو یہاں قادیان کے رہنے والوں کی ہے۔یہ باوجود مختلف قومیتوں کے ہونے کے کم و بیش ایک مزاج کے ہیں۔ان پر ماحول نے کچھ اثر ڈالا ہوا ہے۔ان میں جامعہ وغیرہ کے طلباء بھی ہیں ان پر بھی خاص ماحول کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ وہ واقف زندگی ہیں اور خدا کی رضا کے حصول کے لئے انہوں نے اپنی زندگیاں گزارنے کا عہد کیا ہے۔کچھ تربیت اور ٹریننگ کا اثر ہوتا ہے ان کے مزاج بدلتے ہیں۔اور ہر اس طالب علم کا جس نے اپنی زندگی وقف کی ہے بلکہ ہر واقف زندگی کا مزاج بدلنا چاہئے۔دوسرے کچھ کارکنان ہندوستان کے جنوب سے یا کشمیر سے آنے والے ہیں۔یہی مجھے زیادہ نظر آئے ہیں ، جب میں دو تین جگہ پر گیا ہوں۔ان کے رہن سہن میں، معاشرے میں بہت فرق ہے۔اس لئے بعض دفعہ مزاجوں کے خلاف بات ہو جائے یا کسی وجہ سے غلط فہمی ہو جائے تو آپس میں رنجشیں پیدا ہو جاتی ہیں۔پھر جیسا کہ میں نے کہا باہر سے آنے والوں کی دوسری قسم خاص طور پر پاکستان سے آنے والے کارکنان بھی ہیں جو شوق سے ڈیوٹیاں دے رہے ہیں۔تو یا د رکھیں کہ آپ جس جذبے کو لے کر آئے ہیں اس جذبے کے ساتھ خدمت کر سکتے ہیں۔آپ کو بعض مجبوریوں کی وجہ سے وہاں موقع نہیں ملتا۔بعض کے لئے یہ بالکل نیا کام ہے اس لئے بعض کو شاید کام کرنے میں دقت بھی ہو، سمجھ نہ بھی آتی ہو کہ کیا کرنا ہے۔لیکن اگر بے لوث خدمت کے جذبے سے اور اپنے افسر کی اطاعت کے جذبے سے کام کریں گے تو آپ خدمت کا حق ادا کرنے والے بھی ہوں گے اور خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بھی ہوں گے۔تو دونوں قسم کے کارکنان یہ یاد رکھیں کہ یہاں آپ کسی جگہ کے خاص شہری ہونے یا کسی خاص قبیلے یا علاقے کے ہونے کی وجہ سے کام نہیں کر رہے بلکہ ایک احمدی ہونے کی حیثیت سے کر رہے