مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 97
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 97 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ہوا ہے۔ابھی میں نے جائزہ نہیں لیا، جب جائزہ لیا جائے گا تو پتہ لگ جائے گا کہ صورت حال کیا ہے۔تو بڑی عمر کے اور اچھا کمانے والے جو لوگ ہیں ان کو بھی وصیت کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔الحمد للہ یہ بات مجھے نظر آئی ہے کہ نو جوان بچے اور بچیاں احمدیت سے رشتے اور تعلق میں زیادہ بڑھ رہے ہیں۔اللہ ان کے ایمان میں مزید ترقی دے لیکن بعض دفعہ بعض بڑوں کی حرکتوں کی وجہ سے نو جوانوں کو ٹھو کر بھی لگ سکتی ہے۔اس لئے نوجوانوں کے اس تعلق اور اخلاص میں بڑھنے کی وجہ سے جماعت کے بڑوں پر اور زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ان کو اور زیادہ فکر سے اپنے نمونے قائم کرنے چاہئیں تا کہ کبھی کسی کے لئے ٹھوکر کا باعث نہ بنیں۔اپنے نفس کی قربانیوں میں اور زیادہ ترقی کریں۔اپنی مالی قربانیوں میں اور زیادہ ترقی کریں۔اپنے بزرگوں کے نمونوں کو بھی دیکھیں ، اپنے پہلے حالات پر بھی نظر رکھیں اور اپنے موجودہ حالات پر بھی خدا تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔اور شکر ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جہاں اپنے پر اظہار ہو رہا ہو وہاں اللہ تعالیٰ کی خاطر دینے کا بھی اظہار ہورہا ہو۔اور ہر قسم کی قربانی میں پہلے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ اپنی انگلی نسل کے لئے بھی نیک نمونے قائم کریں۔یہی باتیں ہیں جو آپ کے ایمان میں ترقی کا بھی باعث بنیں گی اور احمدیت کی نوجوان نسل کے جماعت کے ساتھ بہتر تعلق اور نیکیوں میں بڑھنے کا بھی باعث بنیں گی۔نوجوان گند اور بے حیائی سے بچیں نو جوانوں سے بھی میں کہتا ہوں کہ آپ لوگ جو اپنے ہوش وحواس کی عمر میں ہیں۔جماعت سے اپنے تعلق کو مزید پختہ کریں۔اپنے نمونے قائم کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بتائی ہوئی تعلیم پرعمل کریں۔اگر برائی کسی میں دیکھتے ہیں تو اس پر اعتراض شروع کر کے اس پر ٹھوکر نہ کھائیں۔اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں۔اس معاشرے میں جہاں قدم قدم پر گند اور بے حیائی ہے اپنے آپ کو اس سے بچائیں۔اللہ کے حضور جھکنے والے بنیں۔اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے بنیں۔کیونکہ یہی چیز ہے جس سے آپ کا خدا تعالیٰ سے مزید پختہ تعلق پیدا ہو گا۔مزید مضبوط تعلق پیدا ہو گا۔اور جب اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھے گا تو پھر نیکیوں میں قدم آگے بڑھے گا۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا مزید فہم اور ادراک پیدا ہوگا۔ایمان میں مزید ترقی ہوگی۔صرف اس بات پر ہمیں خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ ہم نے اس زمانے کے امام کو مان لیا ہے اور بس کافی ہے۔یہ تو ماننے کے بعد ایک پہلا قدم ہے۔ایمان میں ترقی ہوگی تو مومن کہلائیں گے۔ورنہ اللہ تعالیٰ نے