مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 145
مشعل راه جلد پنجم حصه سوم 145 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی سزائیں ملیں ہم اگر سزا سے بچنا چاہتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو اور ان فساد کی باتوں سے رک۔۔۔اللہ کی پکڑ اب بھی آ رہی ہے۔پس آج یہ پیغام ہمیں ہر اس شخص تک اور ہر اس قوم کے لیڈروں تک پہنچانا چاہئے اور ہر اس قوم تک پہنچانا چاہئے جوان تجارتی دھو کے بازیوں میں مبتلا ہیں کہ تم ان دھوکوں سے امن اور اپنی بالا دستی حاصل نہیں کر سکتے ، اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکامات پر ایمان لانا ضروری ہے ورنہ پرانی قوموں کی تباہیاں تمہارے سامنے ہیں۔یہ عذاب جنہوں نے پہلی قوموں کو تباہ کیا اب بھی آ سکتے ہیں۔اگر ہوش کی آنکھ ہو تو دیکھیں کہ آ رہے ہیں۔دنیا میں ہر جگہ جو آفتیں اور تباہیاں آ رہی ہیں امریکہ میں بھی، ایشیا میں بھی اور دوسری جگہوں میں بھی اور اب موسم کی سختیوں کے بارے میں بھی پیشگوئیاں کی جارہی ہیں تو ان آفتوں کی وجہ بہت ساری برائیاں جو دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔تو ان سے بچنے کا ایک ہی طریق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرو۔ہر احمدی کو یہ پیغام اپنے اپنے دائرے میں اور اپنے حلقے میں پہنچانا چاہئے ، قرآن کریم کے اندار کو سامنے رکھنا چاہئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے کو پیش کرنا چاہئے۔مسلمانوں کی تجارتیں نہ پھیلنے کی وجہ مسلمانوں کو بھی سمجھانا چاہیئے کہ سب سے اول یہ حکم تمہارے لئے ہے کہ اس تعلیم پر عمل کرو۔کیونکہ ہمارے مسلمان ملکوں میں سے جس کسی کا بس چلتا ہے انفرادی طور پر ماپ تول اور لین دین میں تقریباً سبھی ڈنڈی مارنے والے ہیں، دھوکہ دینے والے ہوتے ہیں۔عیسائی مغربی ممالک کم از کم چھوٹی اور انفرادی تجارت میں کافی حد تک ایمانداری سے اپنی چیزیں بیچتے ہیں اور لین دین کرتے ہیں اور عموماً اسی اعتماد پر ان سب کے کاروبار بھی چل رہے ہوتے ہیں۔لیکن مسلمان ملکوں میں اس کی بہت زیادہ کمی ہے۔کئی ملکوں سے تجارت ہوتی ہے اور مغربی ممالک سے بڑے بڑے آرڈر ملتے ہیں۔لیکن آہستہ آہستہ بعض کا روباری مسلمان بھائی کاروبار میچ نہیں رکھتے اور دھوکے کی وجہ ہے وہ تجارتیں بجائے پھیلنے کے کم ہوتی چلی جاتی ہیں۔اور سمجھتے یہ ہیں کہ ہم نے دوسرے کو دھوکہ دے کر تیر مار لیا۔جبکہ بعد میں وہ نقصان اٹھا رہے ہوتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو انذار فرمایا ہے یعنی جو اس کا علم رکھنے والے اور اس کتاب کو ماننے والے ہیں کہ یہ سب سے زیادہ اس کے نیچے آتے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ مسلمان بحیثیت قوم ترقی نہیں کر پا رہے۔کیونکہ ہمیں تو اللہ