مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 146
مشعل را و جلد پنجم حصہ سوم 146 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ نے بڑا واضح طور پر کھول کر ان پرانی قوموں کے واقعات بتائے ہیں اور احکامات بھی دیئے ہیں کہ یہ یہ باتیں تم نے نہیں کرنی اور یہ یہ کرتی ہیں۔اس لئے ہم بہر حال جب تک اس پر عمل نہیں کرتے ، ترقی نہیں کر سکتے۔دوسروں کو تو ڈھیل زیادہ لمبا عرصہ ہوسکتی ہے لیکن مسلمانوں کو نہیں۔پس آج دنیا کو ہر مصیبت ، آفت اور پریشانی سے بچانے کے لئے ہر قسم کے اعلیٰ خلق پر عمل اور اس کی ( دعوت الی اللہ ) کرنا ہر احمدی کا فرض ہے۔اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے کیا اسوہ قائم فرمایا۔کس طرح آپ تجارت اور لین دین اور اس کے معاہدے کیا کرتے تھے، کس طرح اپنے عہد پورے کیا کرتے تھے، کس طرح قرضے اتارا کرتے تھے آپ نے اپنی امت کو بھی نصیحتیں فرمائیں کہ کس طرح لین دین کیا کرو۔اور یہ سب تعلیم آپ نے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق دی۔۔۔امانتوں میں خیانت کرنے والا مومن نہیں پھر ہمیں آپس کے لین دین کے بارے میں امانتوں کی ادائیگی کے بارے میں آپ تنصیحت فرماتے ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی تمہارے پاس کوئی چیز امانت کے طور پر رکھتا ہے اس کی امانت اسے لوٹا دو اور اس شخص سے بھی ہر گز خیانت سے پیش نہ آؤ جو تم سے خیانت سے پیش آچکا ہے۔(ابوداؤد کتاب البیوع - باب في الرجل يا خذ حق۔۔۔۔۔۔پھر صرف یہی نہیں کہ امانت لوٹا دو بلکہ فرمایا کہ وہ شخص مومن ہی نہیں کہلا سکتا جو امانتوں میں خیانت کرتا ہے، جو دوسروں کے حق مارتا ہے، جو کسی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے، جو اپنے عہد کو صحیح طور پر نہیں نبھاتا۔اس بارے میں ایک اور روایت ہے۔حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطاب کرتے ہوئے ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ لَا إِيْمَانَ لِمَنْ لَّا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِيْنِ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ یعنی جو شخص امانت کا لحاظ نہیں رکھتا اس کا ایمان کوئی ایمان نہیں اور جو عہد کا پاس نہیں رکھتا اس کا کوئی دین نہیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحه 135 مطبوعہ بیروت) اب امانت صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ کسی نے کوئی چیز یار تم کسی کے پاس رکھوائی تو وہ اس طرح واپس کر دی۔یہ تو ہے ہی لیکن کوئی بھی شخص جو بھی کام کر رہا ہے اگر وہ اس کا حق ادا نہیں کر رہا، چاہے کام میں ستی