مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 144
144 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصه سوم پھر بعض لوگ دوسرے کے مال پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کوئی بات نہیں اس کو تو پتہ نہیں چل رہا کہ فلاں چیز کی کیا قدر ہے ، اس کو دھوکے سے بیوقوف بنا لو کوئی فرق نہیں پڑتا۔کچھ اپنی جیب میں ڈال لو، کچھ اصل مالک کو دے دو۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ بات یہ عمل بھی اسی زمرے میں آتے ہیں جو فساد پیدا کرنے والے عمل ہیں۔اس قسم کے لوگ جو اس طرح کا مال کھانے والے ہوتے ہیں یہ لوگ دوسروں کے مال کھا کر آپس میں لڑائی جھگڑوں اور فساد کا باعث بن رہے ہوتے ہیں۔دوسرے فریق کو جب پتہ چلتا ہے کہ اس طرح میرا مال کھایا گیا تو ان کے خلاف کارروائی کرتا ہے اور اس طرح آپس کے تعلقات میں دراڑیں پڑتی ہیں۔تعلقات خراب ہوتے ہیں، مقدمے بازیاں ہوتی ہیں۔دشمنیاں پیدا ہوتی ہیں اور بڑھتی ہیں۔لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔اور اگر دوسرا فریق صبر کرنے والا ہو، حوصلہ دکھانے والا ہو تو پھر تو بچت ہو جاتی ہے ورنہ جیسا کہ میں نے بیان کیا یہ لڑائی جھگڑے، فساد، فتنہ یہی صورتحال سامنے آتی ہے۔اور روزمرہ ہم ان باتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ماپ تول میں کمی والا فسادی اور فتنہ پرداز بن جاتا ہے پھر لوگوں کا مال کھانے والا ، کم تول کرنے والا اس حرام مال کی وجہ سے جو وہ کھارہا ہوتا ہے طبعا فسادی اور فتنہ پرداز بن جاتا ہے۔دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے والا نہیں ہوتا۔نیکی اور امن کی بات کی اس سے توقع نہیں کی جاسکتی۔اس کی ہر بات اور ہر کام میں سے برکت اٹھ جاتی ہے۔اور یہ کاروباری بددیانتی یا کسی بھی وجہ سے دوسرے کا مال کھانا یہ ایسے فعل ہیں جن کی وجہ سے جیسا کہ اس آیت میں آیا کہ فساد نہ کرو، پہلی قوموں پر تباہی بھی آئی ہے، یہ بھی ایک وجہ تباہیوں کی بنتی رہی ہے۔تو یہ واقعات جو قرآن کریم میں ہمیں بتائے گئے ہیں صرف ان پرانے لوگوں کے قصے کے طور پر نہیں تھے بلکہ یہ سبق ہیں آئندہ آنے والوں کے لئے بھی کہ دیکھو اللہ تعالیٰ سے کسی کی رشتہ داری نہیں ہے۔اگر اس تعلیم سے دور ہٹو گے تو اس کے عذاب کے مورد بنو گے۔ورنہ پہلی قومیں بھی یہ سوال کر سکتی ہیں کہ ہماری ان غلطیوں کی وجہ سے تو ہمیں عذاب نے پکڑا لیکن بعد میں آنے والے بھی یہی گناہ کرتے رہے اور آزادانہ پھرتے رہے اور عیش کرتے رہے۔یہ ٹھیک ہے اللہ تعالی مالک ہے جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے سزا دے لیکن جن واقعات کی خدا تعالیٰ نے خود اطلاع دے دی، یہ اطلاع اس لئے ہے کہ پہلی قوموں میں یہ یہ برائیاں تھیں جن کی وجہ سے ان کو یہ