مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 124
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 124 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی ہوئے ، اپنے لئے ، اپنے دین کے لئے ، اپنی قوم کے لئے ، ملک کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں۔سچ کو نہیں چھوڑنا پھر دوسرے اخلاق ہیں جن کو اختیار کرنے کا مومن کو حکم ہے۔اس میں سب سے بڑھ کر ایک حکم جو ہے بہت ضروری حکم ہے میرے نزدیک جس پر اگر ہر خادم قائم ہو جائے تو ہر بُرائی سے بچنے اور اصلاح کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔اور وہ ہے سچائی کو اختیار کرنا اور ہر حالت میں سچ کا دامن پکڑے رکھنا۔گزشتہ چند سالوں میں دوسری جگہوں سے احمدی بھی آئے ہیں، پاکستان سے بھی اور یورپ سے بھی دوسرے ملکوں سے۔ان میں خدام بھی ہیں اور مختلف پیشوں سے منسلک ہیں کچھ اسائکم سیکر (۲ سیکر (Asylum Seeker) بھی ہیں۔تو جہاں جہاں بھی احمدی خادم ہے اُسے ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سچ کو نہیں چھوڑنا۔مختلف طبقوں اور مزاجوں کے لوگ جب اکٹھے ہوں تو بعض دفعہ بظاہر چھوٹی چھوٹی بُرائیاں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں لیکن وہ چھوٹی نہیں ہوتیں ان کے نتائج بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔اس لئے خدام الاحمدیہ کے شعبہ تربیت کو ہر لیول پر فعال کرنے کی ضرورت ہے کہ سچ کو کسی بھی موقع پر چھوڑنا اور جھوٹ کا سہارا لینا ایک بہت بڑی بُرائی ہے جو بہت سی بُرائیوں کے پیدا ہونے کا ذریعہ بنتی ہے۔جھوٹ بولنے والے کی عبادتیں بھی بریکار جاتی ہیں کیونکہ جھوٹ کو اللہ تعالیٰ کے مقابل پر رکھ رہا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بتوں کی پرستش اور جھوٹ بولنے سے پر ہیز کرو۔یعنی جھوٹ بھی ایک بت ہے جس پر بھروسہ کرنے والا خدا کا بھروسہ چھوڑ دیتا ہے۔سوجھوٹ بولنے سے خدا بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔پس جھوٹ کو چھوٹی موٹی برائی نہیں سمجھنا چاہیے۔جیسے بھی حالات ہوں ، اگر سچ پر قائم رہنے کی کوشش کریں گے تو اپنی اصلاح کی بھی کوشش کر رہے ہو نگے اور معاشرے کی اصلاح کی بھی کوشش کر رہے ہونگے۔ترقی کے لئے محبت واتفاق ضروری ہے پھر ایک اعلیٰ خلق محبت واتفاق ہے۔کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے یہ بہت ضروری ہے۔بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر رنجشیں پیدا ہو جاتی ہیں اور پھر ناراضگیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔خاندان کے دوسرے لوگ بھی پھر ناراضگیوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔تو یہ کوئی بہادری نہیں ہے کہ غصہ میں آکر فورالڑائی شروع کر دی بلکہ حدیث میں ہے کہ اصل بہادر وہ ہے جو غصہ دبانے والا ہے۔پھر ایک حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت