مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 123
123 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم ہے کہ نوجوان نسل کا ہر قدم روحانی اور اخلاقی لحاظ سے ترقی کی طرف اٹھنے والا قدم ہو۔اسی لئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ قوموں کی اصلاح نو جوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی۔پس یہ نعرہ صرف اور صرف بینر پر لکھ کر لٹکانے کے لئے نہیں ہے یہ نعرہ لگانے کے لئے نہیں ہے یا خدام الاحمدیہ کے پروگراموں کے اوپر پرنٹ کرنے کے لئے نہیں ہے۔بلکہ خدام الاحمدیہ کی انتظامیہ کے لئے بھی ایک چیلنج ہے کہ تم اپنے مقصد میں تب ہی کامیاب ہو سکتے ہو جب تم اپنے اور اپنے ساتھیوں کے قدم روحانی اور اخلاقی ترقی کی طرف لے جارہے ہو گے۔ورنہ یہ عہدے اور یہ سرگرمیاں، یہ Activities ، یہ پروگرام، یہ سب بے فائدہ ہیں۔عہد یداروں کی ذمہ داری اس لئے عہدیداروں کو نیشنل عاملہ کے عہدے دار ہوں یا ریجنل عاملہ ہو یا مقامی عاملہ ہو یا مختلف دوسرے عہدے دار ہوں، ہر لیول کے عہدیداروں کے اپنے معیار بھی بلند ہونے چاہئیں تا کہ دوسرے بھی اُن سے سبق حاصل کریں۔لیکن یہ نعرہ عام خادم کے لئے بھی ایک ٹارگٹ مہیا کر رہا ہے کہ تم اپنے آپ کو معمولی نہ سمجھو۔تم نے اس زمانے کے امام کو مان کر ایک عہد کیا ہے اور اب اس کو پورا کرو۔اپنی روحانی اور اخلاقی ترقی کی طرف توجہ کرو تمہارا ہر قدم نیکی کی طرف اٹھنے والا قدم ہو۔کیونکہ اب تمہاری ترقی سے تمہاری اصلاح سے جماعت کی ترقی وابستہ ہے۔چھوٹی عمر کے خدام یہ نہ سمجھیں کہ ہماری عمرا بھی پندرہ سولہ سال کی عمر ہے، کھیلنے کھولنے کی عمر ہے، کچھ بڑے ہونگے تو اس طرف توجہ کر لیں گے۔یہ عمر ایسی ہے جس میں پختہ اور میچور (Mature) سوچیں پیدا ہو جانی چاہیں۔اس لئے ہر خادم کو اپنے مقام اور اہمیت کو سمجھنا چاہئے۔اپنے عہد پورے کریں حضور انور نے خدام سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے عہد پورے کرنے اور اپنے عہد نبھانے کے بارے میں بہت زور دیا ہے۔فرمایا کہ ہر عہد کے متعلق ایک نہ ایک دن جواب طلبی ہوگی، پوچھا جائے گا۔اور آپ ہر اجلاس میں، اجتماع میں کئی دفعہ یہ عہد دہراتے ہیں۔تو اس میں آپ دینی قومی اور ملتی مفاد کی خاطر ہر قربانی کے لئے تیار رہنے کا عہد کرتے ہیں۔یہ عہد صرف منہ سے الفاظ نکالنے کے لئے نہیں ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کو گواہ ٹھہرا کر عہد کرتے ہیں۔پس اس عہد کو پورا کرتے ہوئے دین، قوم اور ملت کے لئے اپنی اصلاح کرتے ہوئے تمام نیک اخلاق کو اپنانا چاہیے۔ہر خادم کو اپنی نمازوں میں باقاعدگی اختیار کرتے