مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 46 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 46

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 46 ارشادات حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالی خطبہ جمعہ فرمودہ 2 جولائی 2004ء سے اقتباسات * مرد بیوی بچوں کے تمام حقوق ادا کرے عموماً اب یہ رواج ہو گیا ہے کہ مرد کہتے ہیں کیونکہ ہم پر باہر کی ذمہ داریاں ہیں، ہم کیونکہ اپنے کاروبار میں اپنی ملازمتوں میں مصروف ہیں اس لیے گھر کی طرف توجہ نہیں دے سکتے اور بچوں کی نگرانی کی ساری ذمہ داری عورت کا کام ہے۔تو یا درکھیں کہ بحیثیت گھر کے سربراہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ اپنے گھر کے ماحول پر بھی نظر رکھے، اپنی بیوی کے بھی حقوق ادا کرے اور اپنے بچوں کے بھی حقوق ادا کرے، انہیں بھی وقت دے ان کے ساتھ بھی کچھ وقت صرف کرے چاہے ہفتہ کے دو دن ہی ہوں ، ویک اینڈز (weekends) پر جو ہوتے ہیں۔انہیں (بیت الذکر ) سے جوڑے، انہیں جماعتی پروگراموں میں لائے ، ان کے ساتھ تفریحی پروگرام بنائے ، ان کی دلچسپیوں میں حصہ لے تا کہ وہ اپنے مسائل ایک دوست کی طرح آپ کے ساتھ بانٹ سکیں۔بیوی سے اس کے مسائل اور بچوں کے مسائل کے بارے میں پوچھیں، ان کے حل کرنے کی کوشش کریں۔پھر ایک سربراہ کی حیثیت آپ کو مل سکتی ہے۔کیونکہ کسی بھی جگہ کے سربراہ کو اگر اپنے دائرہ اختیار میں اپنے رہنے والوں کے مسائل کا علم نہیں تو وہ تو کامیاب سر براہ نہیں کہلا سکتا۔اس لیے بہترین نگران وہی ہے جو اپنے ماحول کے مسائل کو بھی جانتا ہو۔یہ قابل فکر بات ہے کہ آہستہ آہستہ ایسے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو اپنی ذمہ داریوں سے اپنی نگرانی کے دائرے سے فرار حاصل کرنا چاہتے ہیں یا آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔اور اپنی دنیا میں مست رہ کر زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔تو مومن کو، ایک احمدی کو ان باتوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہونا چاہیے۔مومن کے لیے تو یہ حکم ہے کہ دنیا داری کی باتیں تو الگ رہیں ، دین کی خاطر بھی اگر تمہاری مصروفیات ایسی ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے تم نے منتقلاً اپنا یہ معمول بنالیا ہے، یہ روٹین بنالی