مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 47
47 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم ہے کہ اپنے گرد و پیش کی خبر ہی نہیں رکھتے ، اپنے بیوی بچوں کے حقوق ادا نہیں کرتے ، اپنے ملنے والوں کے حقوق ادا نہیں کرتے ، اپنے معاشرے کی ذمہ داریاں نہیں نبھاتے تو یہ بھی غلط ہے۔اس طرح تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم نہیں ہوتے۔بلکہ یہ معیار حاصل کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ادا کر و اور بندوں کے حقوق بھی ادا کرو۔۔۔بیویوں سے حسن سلوک کی تاکید بعض ایسی شکایات بھی آتی ہیں کہ ایک شخص گھر میں کرسی پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا ہے، پیاس لگی تو بیوی کو آواز دی کہ فریج میں سے پانی یا جوس نکال کر مجھے پلا دو۔حالانکہ قریب ہی فریج پڑا ہوا ہے خود نکال کر پی سکتے ہیں۔اور اگر بیوی بیچاری اپنے کام کی وجہ سے یا مصروفیت کی وجہ سے یا کسی وجہ سے لیٹ ہو گئی تو پھر اس پر گر جنا، برسنا شروع کر دیا۔تو ایک طرف تو یہ دعوی ہے کہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے اور دوسری طرف عمل کیا ہے ، ادنیٰ سے اخلاق کا بھی مظاہرہ نہیں کرتے۔اور کئی ایسی مثالیں آتی ہیں جو پوچھو تو جواب ہوتا ہے کہ ہمیں تو قرآن میں اجازت ہے عورت کو سرزنش کرنے کی۔تو واضح ہو کہ قرآن میں اس طرح کی کوئی ایسی اجازت نہیں ہے۔اس طرح آپ اپنی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے قرآن کو بدنام نہ کریں۔۔۔۔آج کل دیکھیں ذرا ذرا سی بات پر عورت پر ہاتھ اٹھا لیا جاتا ہے حالانکہ جہاں عورت کو سزا کی اجازت ہے وہاں بہت سی شرائط ہیں اپنی مرضی کی اجازت نہیں ہے۔چند شرائط ہیں ان کے ساتھ یہ اجازت ہے۔اور شاید ہی کوئی احمدی عورت اس حد تک ہو کہ جہاں اس سزا کی ضرورت پڑے۔اس لیے بہانے تلاش کرنے کی بجائے مرد اپنی ذمہ داریاں سمجھیں اور عورتوں کے حقوق ادا کریں۔صلہ رحمی کریں۔۔۔ایک انسان میں جو خصوصیات ہونی چاہئیں خاص طور پر ایک مرد میں جن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے جس سے پاک معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے وہ یہی ہے۔۔۔۔کہ صلہ رحمی اور حسن سلوک ، رشتہ داروں کا خیال ، ان کی ضروریات کا خیال ، ان کی تکالیف کو دور کرنے کی کوشش۔اب صلہ رحمی بھی بڑا وسیع لفظ ہے اس میں بیوی کے رشتہ داروں کے بھی وہی حقوق ہیں جو مرد کے اپنے رشتے داروں کے