مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 163
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 163 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی ایک احمدی بچے کو بہت زیادہ سچ پر قائم ہونا چاہیے پھر سچ بولنا ہے۔یہ بھی ایک بہت بڑی نیکی ہے اور اس وجہ سے آدمی میں اور نیکیاں کرنے کی طرف توجہ بھی پیدا ہو جاتی ہے۔یہ نہیں ہے کہ کسی بڑے کو آپ نے جھوٹ بولتے یا غلط بات کرتے دیکھ لیا تو آپ کہیں کہ غلط بات کرنا یا جھوٹ بولنا جائز ہے میں بھی کرلوں۔ایک واقعہ کا ذکر آتا ہے شیخ عبدالقادر جیلانی کا شاید واقعہ ہے کہ وہ پڑھنے کے لیے نکلے، یہی عمر تھی چھوٹی ہی ان کی ، بارہ ، تیرہ، چودہ سال کی عمر تھی۔گھر سے نکلے تو ان کی ماں نے ان کو نصیحت کی تھی کہ تم نے جھوٹ نہیں بولنا، جو مرضی حالات ہو جائیں۔اب راستے میں چور اور ڈاکو تھے انہوں نے قافلے کو روک لیا ، ان سے بھی پوچھا ، انہوں نے کہا میرے پاس 80 درہم ہیں۔وہ ان کی اس زمانہ کی کرنسی تھی۔ڈاکوؤں نے کہا کہ یہ چھوٹا سا بچہ ہے اس کے پاس یہ اتنی رقم کہاں سے آگئی۔خیر وہ سردار کے پاس لے کر گئے۔انہوں نے کہا ! ہاں میری ماں نے کہا تھا جھوٹ نہیں بولنا اس لیے میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ میرے پاس ہیں اور میری قمیض کے اندر سے ہوئے ہیں۔ڈاکوؤں کا سردار جو تھا اس بچہ کے سچ بولنے کو دیکھ کر اتنا متاثر ہوا کہ اس نے چوری اور ڈاکے اور سب برے کام ، گندے کام چھوڑ دیے۔تو بچے بڑوں کے لیے نصیحت کا باعث بن جاتے ہیں۔اس لیے آپ نے اپنا نمونہ دکھانا ہے۔کبھی بری بات میں کسی کی نقل نہیں کرنی۔اور جھوٹ جو ہے اس کے بارہ میں تو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ یہ شرک کے برابر ہے اور شرک بہت بڑا جرم ہے کہ کسی کو اللہ تعالیٰ کے برابر سمجھنا۔بچے بعض دفعہ چھوٹی سی غلطی کرتے ہیں ، گھروں میں ہی مثلاً غلطی کرتے ہیں۔کوئی چیز تو ڑ دی یا کوئی اور نقصان کر دیا یا کسی سے لڑ پڑے یا کسی دوسرے بھائی بہن کو مارا تو ماں باپ جب پوچھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ نہیں ہم نے نہیں کیا۔تو یہ جھوٹ جو ہے یہ آہستہ آہستہ پھر بڑے جھوٹ بولنے کی طرف لے جاتا ہے۔اس لیے ہمیشہ یادرکھیں کہ سچ بولنا ہے کیونکہ اگر آپ اس طرح جھوٹ بولتے رہے تو آہستہ آہستہ پھر اللہ تعالیٰ کی جو قدر ہے آپ کے نزدیک کچھ نہیں رہے گی ، اللہ تعالیٰ کو آپ کچھ نہیں سمجھیں گے، کوئی value اس کی نہیں ہوگی بلکہ آپ سمجھیں گے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں اور جھوٹ بول کے اپنی جان بچا سکتا ہوں۔اس کا مطلب ہے کہ نماز پڑھتے ہوئے آپ یہ کہتے ہیں کہ اللہ میاں میرا رب ہے، مجھے پالنے والا ہے، میری پرورش کرنے والا ہے۔مجھے ہر چیز دینے والا ہے لیکن یہاں جھوٹ بول کے آپ اللہ میاں کی بجائے سمجھ رہے ہیں کہ میرا جھوٹ جو ہے وہ مجھے