مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 162 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 162

162 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم بچے ہیں جن کو برائی اور نیکی کا بڑی اچھی طرح پتہ لگ جاتا ہے۔پھر برائیوں سے بچنے کی اس میں دعا سکھائی ہے نماز میں سورہ فاتحہ میں آپ پڑھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے آپ دعا مانگتے ہیں کہ اللہ میاں ہمیں برائیوں سے بچا اور صحیح رستے پر چلا اور برائیوں سے بچنے کے لیے اور صحیح رستے پر چلنے کے لیے ہم تجھ سے تیر افضل ما نگتے ہیں۔دعا کرتے ہیں ، تیرے آگے جھکتے ہیں۔پھر نیک لوگوں کے رستے پر چلا ہمیں اور وہ نیک لوگوں کا رستہ کیا ہے وہ راستہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دکھایا اور اسی رستے پر چل کے ہمیں کامیابیاں مل سکتی ہیں۔تو اس لیے جب آپ نماز پڑھتے ہیں تو غور سے پڑھیں سوچ سمجھ کر پڑھیں۔یہ آپ کی بچپن کی عمر نہیں ہے۔بہت سارے مضمون آپ کے ایسے ہیں جو آپ اپنے دوستوں میں بیٹھے ہوں۔Discussion ہو رہی ہوتی ہے کسی Subject پر یا کسی کھیل پر جس میں دلچسپی ہے،Golf پر یا Cricket پر یا T۔V کے کسی ڈرامے سے دلچسپی ہے تو ایسے بڑے بڑے تبصرے آپ کر رہے ہوتے ہیں کہ جس طرح پوری مہارت ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا دماغ ہے۔اور اگر دماغ اس طرف چلانا چاہیں ، دین کی طرف تو ادھر بھی چل سکتا ہے۔عبادتوں کی طرف لانا چاہیں تو ادھر بھی چل سکتا ہے۔اس لیے تمام وہ بچے جو دس گیارہ سال کی عمر سے بڑے ہیں ان کو اب اپنے آپ کو بچہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اب وہ بڑے ہو چکے ہیں اس لیے نمازوں کی طرف مکمل غور کر کے نمازیں پڑھنے کی طرف توجہ دیں۔والدین کا ادب اور اُن کے لیے دعا پھر اللہ میاں کا حکم ہے برائیاں جو بہت ساری ہیں ان سے رکنے کا اور اچھائیاں اختیار کرنے کا۔ان میں سے ایک نیکی یہ ہے کہ اپنے ماں باپ کی عزت کرو، ان کا احترام کرو، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ہمیں دعا سکھائی ہے کہ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيْنِي صَغِيرًا کہ اے اللہ تو ان پر رحم کر، ان کا ہر دم محافظ ہو ، ہر وقت ان کی نگہداشت کر، ان پر رحم فرما، ان پر فضل فرما کیونکہ انہوں نے بچپن میں میرے ساتھ بڑا نیک سلوک کیا اور میری پرورش کی۔تو اس لحاظ سے آپ لوگوں کا فرض بنتا ہے کہ اپنے ماں باپ کے لیے بہت دعا کیا کریں اور یہ بھی اللہ کا حکم ہے۔دیکھیں کتنے بڑے احسان ہیں ماں باپ کے بھی انہوں نے آپ کی تربیت کی جس طرح کہ میں نے پہلے بتایا۔آپ بڑے ہوئے ، آپ کی پڑھائی کا خیال رکھا، آپ کی دینی تعلیم کا خیال رکھا، آپ کو جماعت کے ساتھ وابستہ رکھا اور اس کا نتیجہ ہے کہ آپ لوگ آج یہاں اجتماع کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔