مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 164
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 164 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس اید و اللہ تعالی بچائے گا وہی میرے کام آئے گا اور اسی سے میں بچ سکتا ہوں۔تو اس طرح پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ پر بھی یقین نہیں رہتا اور ایک احمدی بچے کو تو بہت زیادہ سچ پر قائم ہونا چاہیے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مضمون لکھا اور پریس میں بھیجا اور جو اس کا پیکٹ تھا جس میں وہ لفافہ انہوں نے ڈال کے بھیجا تھا اس میں ایک خط علیحدہ بھی رکھ دیا۔تو وہاں پر یس والے شرارتی تھے ، قانون یہ تھا کہ دوسرا لفافہ اس کے اندر نہیں رکھا جا سکتا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کیس کر دیا اور اس کا جرمانہ بھی ہوسکتا تھا، سزا بھی ہو سکتی تھی۔وکیلوں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کہ آپ کہہ دیں کہ میں نے یہ لفافہ اس پیکٹ میں نہیں رکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ جو مرضی ہو جائے۔چاہے مجھے سزا ہو جائے۔میں نے جھوٹ نہیں بولنا۔تو آپ نے کورٹ میں جا کے ،عدالت میں جا کے یہ کہا کہ لفافہ میں نے رکھا ہے لیکن اس کو میں اس مضمون کا حصہ سمجھتا ہوں اس لیے رکھا ہے۔تو عدالت نے آپ کو کہا ٹھیک ہے اور کوئی سزا نہیں دی بری کر دیا۔تو ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ سچ جو ہے اس کی جیت ہوتی ہے اس لیے کبھی چھوٹی سے چھوٹی بات پر بھی آپ نے غلط بیانی سے کام نہیں لینا۔غلطی کو چھپانا نہیں چاہیے پھر آج کل کے معاشرے میں یہاں لڑکوں میں چودہ پندرہ سال کی عمر میں سکول کے بچے ہیں ، دوستوں میں مل جل کے بعضوں کو سگریٹ پینے کی عادت ہو جاتی ہے یا سگریٹ پینے کے ساتھ بعض دفعہ دوسری نشہ آور چیز میں جو ہیں وہ بھی بعض دفعہ پلانے کی کوشش کرتے ہیں۔بہت سارے اس قسم کے گروہ ہیں جو سکولوں میں جاتے ہیں اور بچوں کو عادت ڈالتے ہیں۔تو اگر کبھی ایسا ہو جائے کہ کسی کے کہنے پر آپ سے غلطی ہو جائے اور ماں باپ کو پتہ لگ جائے تو کبھی چھپانا نہیں ہے۔بتادیں کہ ہمارے سے یہ غلطی ہوگئی تھی اور تبھی آپ کی اصلاح ہو سکتی ہے اور اگر آپ چھپاتے رہے تو پھر آہستہ آہستہ عادتیں پڑ جائیں گی اور پھر بہت بڑے بڑے جرم بھی کرنے لگ جائیں گے۔اتنی گندی عادتیں پڑ جائیں گی کہ جس کی کوئی انتہاء نہیں ہوگی۔پھر آپ نہ جماعت کے کسی کام آسکیں گے نہ اپنی زندگی آپ کی سنور سکے گی اور بگڑتے چلے جائیں گے۔آنحضرت سے جب ایک آدمی نے پوچھا کہ میں نے اپنی برائیاں چھوڑنی ہیں تو کس طرح چھوڑوں تو آپ نے فرمایا تھا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔چنانچہ اس نے جھوٹ بولنا چھوڑا اور بہت ساری برائیاں ختم ہو گئیں۔اس لیے یادرکھیں جھوٹ بہت بڑا گناہ ہے۔بہت بڑی برائی ہے۔اگر کسی میں یہ ہے تو وہ اپنی زندگی برباد کر لے گا۔