مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 97
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 97 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی خطبہ جمعہ فرموده 3 ستمبر 2004ء سے اقتباسات بچوں میں سلام کی عادت ڈالیں * اپنے بچوں کو سلام کہنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔یہ تو ٹرینگ کا ایک مستقل حصہ ہے، بچے کو سمجھاتے رہیں کہ وہ سلام کرنے کی عادت ڈالے، گھر سے جب بھی باہر جائے سلام کر کے جائے اور گھر میں جب داخل ہو تو سلام کر کے داخل ہو۔پھر بچوں کو اس کا مطلب بھی سمجھائیں کہ کیوں سلام کیا جاتا ہے تو بہر حال بچوں ، بڑوں سب کو سلام کہنے کی عادت ہونی چاہیے۔گھروں میں اجازت لے کر داخل ہوں بعض دفعہ بے تکلف دوستوں اور بے تکلف عزیزوں کے گھروں میں لوگ بے دھڑک چلے جاتے ہیں۔یہاں یورپ میں تو اکثر گھروں میں باہر کے دروازوں کو کیونکہ تالا لگا ہوتا ہے یا اس طرح کا لاک (Lock) ہوتا ہے جو خود بخود بند ہو جاتا ہے یا باہر سے کھل نہیں سکتا اس لیے اس طرح جانہیں سکتے اور جن گھروں میں اس طرح کا نظام نہیں ہے یا اگر یہ نہ ہو اور گھر کھلے ہوں تو شاید ان گھروں میں گھنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے لیکن پاکستان ، ہندوستان وغیرہ میں بلکہ تمام تیسری دنیا جو کہلاتی ہے ان ملکوں میں یہی طریق ہے اور جب رو کو کہ اس طرح نہیں ہونا چاہیے تو پھر برا مناتے ہیں۔یہ حکم عورتوں کے لیے بھی اسی طرح ہے جس طرح یہ مردوں کے لیے ہے۔عورتوں میں بھی وہی قباحتیں پیدا ہو سکتی ہیں جس طرح مردوں میں پیدا ہوسکتی ہیں بلکہ بعض حالات میں عورتوں کے لیے زیادہ قباحتیں پیدا ہو جایا کرتی ہیں۔اس لیے سلام کر کے ، اعلان کر کے، اجازت لے کر گھر کے جس فرد کے پاس بھی آئی ہوں وہاں جائیں تا کہ تمام گھر والوں کو بھی پتہ ہو کہ فلاں اس وقت ہمارے گھر میں موجود ہے۔پھر پردہ دار عورت کے لیے اور بھی آسانی پیدا ہو جاتی ہے کہ اس اعلان کی وجہ سے جہاں وہ گھر میں موجود ہوگی وہاں مرد آسانی سے آجا