مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 98
98 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم نہیں سکیں گے یا آنے میں احتیاط کریں گے۔پردہ کروا کر آئیں گے۔تو اس طرح اور بھی بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن میں صرف سلام کہنے سے فائدہ ہوتا ہے۔پھر یہ بھی فرمایا کہ گھر میں کوئی نہ ہوتو یہ نہیں کہ گھر یا کمرہ کھلا دیکھ کر وہاں جا کے بیٹھ جاؤ بلکہ اگر گھر میں کوئی نہیں تو تین دفعہ سلام کہو اور جب تین دفعہ سلام کہہ دیا اور کسی نے نہیں سنا تو واپس چلے جاؤ۔اور پھر یہ کہ گھر میں اجازت ملے تو داخل ہونا ہے۔اگر تم نے تین دفعہ سلام کیا اور اجازت نہیں ملی یا گھر میں کوئی نہیں ہے یا گھر والا پسند نہیں کرتا کہ تم اس وقت اس کے گھر آؤ تو واپس چلے جاؤ۔اگر کوئی گھر والا موجود ہو اور کھل کر یہ کہہ بھی دے کہ اس وقت مجبوری کی وجہ سے میں مل نہیں سکتا تو پھر برا نہ مناؤ بلکہ جو کہا گیا ہے وہ کرو۔اور وہ یہی کہا گیا ہے کہ واپس چلے جاؤ اس لیے بہتری اسی میں ہے کہ واپس چلے جاؤ۔سلام تو اس لیے پھیلا رہے ہو کہ سلامتی کا پیغام پھیلے، امن کا پیغام پھیلے، آپس میں محبت اور اخوت قائم ہو، تمہارے اندر پاکیزگی قائم ہو تو پھر اگر کوئی گھر والا معذرت کر دے یا ملنا نہ چاہے تو اس کے باوجود ملنے والا برا نہ منائے۔اور گھر والے کی بات مان لے۔تو یہ ہے (دینی) معاشرہ جو سلام کو رواج دے کر قائم ہوگا۔احمدی آبادیوں میں سلام کو رواج دیں۔۔۔پاکستان میں تو ہمارے سلام کہنے پر پابندی ہے، بہت بڑا جرم ہے۔بہر حال ایک احمدی کے دل سے نکلی ہوئی سلامتی کی دعائیں اگر یہ لوگ نہیں لینا چاہتے تو نہ لیں اور تبھی تو یہ ان کا حال ہورہا ہے۔لیکن جہاں احمدی اکٹھے ہوں وہاں تو سلام کو رواج دیں۔خاص طور پر ربوہ، قادیان میں۔اور بعض اور شہروں میں بھی اکٹھی احمدی آبادیاں ہیں ایک دوسرے کو سلام کرنے کا رواج دینا چاہیے۔میں نے پہلے بھی ایک دفعہ ربوہ کے بچوں کو کہا تھا کہ اگر بچے یاد سے اس کو رواج دیں گے تو بڑوں کو بھی عادت پڑ جائے گی۔پھر اسی طرح واقفین نو بچے ہیں۔ہمارے جامعہ نئے کھل رہے ہیں ان کے طلباء ہیں اگر یہ سب اس کو رواج دینا شروع کریں اور ان کی یہ ایک انفرادیت بن جائے کہ یہ سلام کہنے والے ہیں تو ہر طرف سلام کا رواج بڑی آسانی سے پیدا ہو سکتا ہے اور ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔بعض اور دوسرے شہروں میں کسی دوسرے کو سلام کر کے پاکستان میں قانون ہے کہ مجرم نہ بن جائیں۔احمدی کا تو چہرے سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ احمدی ہے۔اس لیے فکر کی یا ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔اور مولوی