مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 70 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 70

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 70 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی نظام کی پابندی نہ کرنے والوں کے لیے تنبیہ۔اس بات کا کوئی فائدہ نہیں کہ جلسہ پر آئیں وقتی جوش پیدا ہو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اور جلسہ ختم ہوتے ہی باہر جائیں تو جذبات پر اتنا سا بھی کنٹرول نہ رہے کہ دوسرے کی کوئی بات ہی برداشت کر سکیں۔اگر یہ حالت ہی رکھنی ہے تو بہتر ہے کہ پھر جلسے پر نہ آئیں۔یہاں کئی واقعات ایسے ہو جاتے ہیں جن کو اپنے آپ پر کوئی کنٹرول نہیں رہتا۔صحیح طور پر نہ خود جلسہ سنتے ہیں اور نہ ہی دوسرے کو سننے دیتے ہیں اور ذرا ذراسی بات پر پھر سر پٹول بھی ہو رہی ہوتی ہے۔تو ایسے لوگ پھر وہی لوگ ہیں جیسے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ کان رکھتے ہیں اور سنتے نہیں اور دل رکھتے ہیں اور سمجھتے نہیں۔ذرا غور کریں یہ کون لوگ ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے یہ ان لوگوں کی نشانی بتائی ہے جو انبیاء کا انکار کرنے والے ہیں۔جب اس طرح کے رویے اختیار کرنے ہیں تو پھر جب نظام جماعت ایکشن لیتا ہے پھر یہ شکایت ہوتی ہے کہ کارکنان نے ہمارے ساتھ بدتمیزی کی ہے اور ہمیں یہ کہا اور وہ کہا۔یہ ٹھیک ہے میں نے کارکنان کو بھی بڑی دفعہ یہ سمجھایا ہے کہ براہ راست ان کو کچھ نہیں کہنا ، ایسے لوگوں کو جو اپنے عمل سے خود کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہم نظام کو کچھ نہیں سمجھتے ، جلسے کے تقدس کو کچھ نہیں سمجھتے تو پھر ان کا ایک ہی علاج ہے کہ اس تکبر کی وجہ سے ان کو پولیس میں دے دیا جائے۔گزشتہ سال بھی ایسے ایک دو واقعات ہوئے تھے۔تو اگر اس سال بھی کوئی اس نیت سے آیا ہے کہ بجائے اس کے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت واخوت پیدا کرے، یہ نیت ہے کہ فساد پیدا کرے تو پھر جلسے پر نہ آنا ہی بہتر ہے اور اگر آئے ہوئے ہیں تو بہتر ہے کہ چلے جائیں تا کہ نظام جماعت کے ایکشن پر پھر شکوہ نہ ہو۔گزشتہ جمعہ میں میں نے کارکنان کو اور یہاں کے رہنے والوں کو جو لندن یا اسلام آباد کے ماحول میں رہ رہے ہیں ، یہ کہا تھا کہ مہمان نوازی کے بھی حق ادا کریں۔لیکن آنے والے مہمانوں کو بھی خیال رکھنا چاہیے کہ وہ ڈیوٹی پر مامور کارکنوں کو ابتلاء میں نہ ڈالیں اور جو نظام ہے اس سے پورا پورا تعاون کریں۔اس لیے جہاں خدمت کرنے والے کارکنان مہمانوں کی خدمت کے لیے پوری محنت سے خدمت انجام دے رہے ہیں وہاں مہمانوں کا بھی فرض ہے کہ مہمان ہونے کا حق بھی ادا کریں اور جس مقصد کے لیے آئے ہیں اس کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔