مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 69 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 69

69 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم ملنے سے، اکٹھے ہونے سے محبت واخوت بھی قائم ہوتی ہے۔آپس میں تعلق اور پیار بھی بڑھتا ہے اور بعض دفعہ حقیقی رشتہ داریاں بھی قائم ہو جاتی ہیں کیونکہ بہت سے تعلق پیدا ہوتے ہیں۔رشتہ ناطے کے بہت سے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔اور اس سے جماعت میں جو مضبوطی پیدا ہونی چاہیے وہ پیدا ہوتی ہے اور اجنبیت بھی دور ہوتی ہے۔ایک دوسرے کے لیے بغض و کینے کم ہوتے ہیں اور جب ایسی باتوں کا ، آپس میں لوگوں کی رنجشوں کا پتہ لگتا ہے تو ان کے لیے پھر دعائیں کرنے کا بھی موقع ملتا ہے۔اور پھر جو دوران سال وفات پاگئے ہیں ان کی مغفرت کے لیے بھی دعا کرنے کا موقع ملتا ہے۔جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والی باتوں کے سنانے کا شغل رہے گا۔جلسہ کی کارروائی غور سے سنیں لیکن جلسوں پر آنے والے صرف میلے کی صورت میں اکٹھے ہو جانے کا تصور لے کر نہ یہاں آئیں۔جب یہاں آئیں تو غور سے ساری کارروائی کو سنا چاہیے۔اگر اس بارے میں سستی کرتے ہیں تو پھر تو یہاں آ کر بیٹھنا اور تقریریں سننا کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتا۔اس لیے باہر سے آنے والے بھی جو خرچ کر کے آئے ہیں اور یہاں کے رہنے والے بھی جلسے کی تقریروں کے دوران پورا پورا خیال رکھیں اور بڑے غور اور دلجمعی سے جلسے کی کارروائی کو نہیں۔۔۔۔بعض دفعہ لوگ جلسے کے دوران باہر آ جاتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ فلاں مقر ر کا جو انداز ہے، جس طرح وہ بیان کر رہا ہے میں تو اس طرح نہیں سن سکتا اس لیے باہر آ گیا ہوں۔یہ بھی ایک طرح کا تکبر ہے۔اور چاہے کوئی مقرر دھواں دار تقریر کرتا ہے یا نہیں، چاہے وہ اپنے الفاظ اور آواز کے جادو سے آپ کے جذبات کو ابھارتا ہے یا نہیں، تقریریں سنیں اور ان میں علمی اور روحانی نکتے تلاش کریں اور پھر ان سے فائدہ اٹھائیں۔فرمایا کہ جو صرف آواز اور الفاظ کے جادو سے متاثر ہونے والے ہوتے ہیں وہ کبھی ترقی نہیں کرتے کیونکہ وقتی اثر ہوتا ہے اور مجلس سے اٹھ کر جاؤ تو اثر ختم ہو گیا۔اور یہی بات ایک احمدی میں نہیں ہونی چاہیے۔۔۔