مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 61
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 61 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی چاہیے کہ دبائی جائے۔لیکن کم از کم یہ ضرور ہو فر مایا کہ، منہ کھول کر ہاہا نہ کرے۔کیونکہ جمائی شیطان کی طرف سے آتی ہے۔یعنی ستی کا موجب ہوتی ہے اور وہ اس کے آنے پر ہنستا ہے۔(ترمذی ابواب الاستیذان والادب باب ماجاء ان الله يحب العطاس ويكره التثاوب) تو بعض لوگ مجلس میں بیٹھے ہوتے ہیں، جمائی آگئی ، دبانا تو کیا منہ پر ہاتھ بھی نہیں رکھتے اور پھر ساتھ بازو پھیلا کے انگڑائی بھی ایسی لیتے ہیں کہ بعض دفعہ باز وجو پھیلتا ہے تو ساتھ والے شخص کے کہیں نہ کہیں ناک منہ پر لگ جاتا ہے اور بچے بڑوں کی یہ عادت دیکھتے ہیں تو بچے بھی ( وقف نو کلاس میں میں نے ذکر بھی کیا تھا) اس کا خیال نہیں رکھتے۔ہمیشہ منہ پہ ہاتھ رکھیں اور ضروری نہیں کہ ساتھ انگڑائی بھی لی جائے۔اور بعض لوگ تو میں نے دیکھا ہے ( بیت الذکر ) میں نماز پڑھتے ہوئے ایسی زور سے جمائی لیتے ہیں تو آوازیں نکالتے ہیں۔یہاں تو ہاہا ہے لیکن وہ تو ہائے وائے کی آوازیں نکل رہی ہوتی ہیں۔بعض دفعہ شک پڑ جاتا ہے کہ کسی کو کچھ ہو نہ گیا ہو۔تو نماز پڑھتے وقت کم از کم احتیاط کرنی چاہیے۔مجالس کے آداب اور اس کے حقوق میں یہ بھی شامل ہے کہ جب مجلس میں بیٹھیں تو مجلس میں اگر بات کر رہے ہیں تو اس طرح کریں کہ سب سن رہے ہوں۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو افراد اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر آپس میں کھسر پھر نہ کریں کیونکہ ایسا کرنا تیسرے شخص کو رنجیدہ کر دے گا۔تو بعض دفعہ یہ رنجیدگی بعض طبائع کی وجہ سے لڑائیوں اور جھگڑوں کی وجہ بن جاتی ہے۔بدظنیوں کی وجہ بن جاتی ہے تو ہمیشہ مجلسوں میں اس طرح کرنے سے بچنا چاہیے اور اگر کسی سے انتہائی ضروری بات کرنی بھی ہے تو جو ساتھ بیٹھا ہوا شخص ہے اس سے اجازت لے کر کہ میں فلاں شخص سے فلاں ضروری بات کرنا چاہتا ہوں ایک طرف لے جا کے کرنی چاہیے تا کہ کسی بھی قسم کی بدظنی پیدا نہ ہو کیونکہ شیطان جو ہے ہر وقت اس تاک میں ہے کہ کسی طرح فساد پیدا کرے۔ایک روایت میں آتا ہے ایسے لوگوں کے بارے میں جو رستوں پر مجلسیں جما کے بیٹھ جاتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رستوں پر بیٹھنے سے بچو، اس پر صحابہ نے عرض کی کہ ہمیں رستوں پر مجلسیں لگانے کے سوا کوئی چارہ نہیں، وہاں بیٹھ کر ہم باتیں کرتے ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ابو داؤد کتاب الادب)