مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 62
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 62 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی نے فرمایا اگر تم راستوں پر نہ بیٹھنے سے انکار کرتے ہو یعنی اس کے علاوہ کوئی چارا نہیں ہے تو پھر رستے کو اس کا حق دو۔اس پر صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! راستے کا کیا حق ہے۔تو آپ نے فرما یا غفض بصر سے کام لینا۔پھر اپنی آنکھیں نیچی رکھو، ہر ایک کو دیکھتے نہ رہو۔اور تکلیف دہ چیزوں کو دور کرنا۔وہاں بیٹھے ہوئے بازار میں کوئی تکلیف دہ چیز دیکھو یا سڑک پر تو اس کو ہٹانے کی کوشش کر وہ بعض لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں ان میں بھی صلح و صفائی کرانے کی کوشش کرو۔پھر سلام کا جواب دینا، نیک باتوں کا حکم دینا۔اگر کہیں بری بات دیکھو تو پیار سے سمجھاؤ۔اور نا پسندیدہ باتوں سے منع کرنا۔(ابوداؤد کتاب الادب ) راستے کی مجلسیں لگانے والوں کو فرمایا کہ اگر ایسی مجبوری ہے کہ تم اس کو چھوڑ نہیں سکتے تو یہ جو باتیں گنوائی گئی ہیں اس حدیث میں تو ان کی طرف توجہ دو اور یہ راستے کے حق ہیں اور ان کو ادا کر و تب تم راستے میں مجلس لگانے کا حق ادا کر رہے ہو گے۔نہیں تو پھر کوئی حق نہیں پہنچتا کہ مجلسیں لگاؤ۔پھر مجلس میں بیٹھنے کے آداب ہیں بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ اس طرح بیٹھے ہیں ایسا زاویہ ہوتا ہے کہ دائیں بائیں ( اگر کہیں رش ہے تو ) کوئی دوسرا بیٹھ نہ سکے ، باوجود اس کے کہ جگہ ہوسکتی ہے۔تو ایسی مجالس میں جہاں رش کا زیادہ امکان ہو ہمیشہ اس طریق سے بیٹھنا چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے جگہ بنا سکے، اس سے وسعت قلبی بھی پیدا ہوتی ہے اور ایک مومن کی یہی شان ہے کہ اپنے دل کو وسیع کرے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین مجالس وہ ہیں جو کشادہ ہوں“۔(ابوداؤ د کتاب الادب ) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تو ہر فعل اور آپ کا ہر خلق قرآن کریم کے مطابق تھا تو یہ بھی تَفَسَّحُوْا فِي الْمَجَالِسِ کی ہی تشریح ہے کیونکہ اگر یہ کشادگی پیدا ہوگی اور خوش دلی سے جگہ کو کشادہ کرو گے تو آپس میں محبت اور اخوت بھی بڑھے گی۔اور اس وجہ سے شیطان تمہارے اندر رنجشیں پیدا نہیں کر سکے گا بلکہ تم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے ہو گے۔مجالس میں بیٹھنے کے ضمن میں ایک روایت میں آتا ہے کہ تم میں سے کوئی کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے اس غرض سے نہ اٹھائے کہ تا وہ خود اس جگہ بیٹھے۔وسعت قلبی سے کام لو اور کھل کر بیٹھو۔چنانچہ ابن عمر کا طریق تھا کہ جب کوئی آدمی آپ کو جگہ دینے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھتا تو آپ اس کی جگہ پر نہ بیٹھتے۔(بخاری کتاب الاستيذان باب اذا قيل لكم تفسحوا في المجالس)