مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 60 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 60

60 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم تو ایسے لوگ جن کو ایسے مواقع بھی مل جاتے ہیں سفر کر کے خرچ کر کے جلسے پر بھی آتے ہیں۔لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اپنی مجلسیں جما کر ہنسی ٹھٹھے اور گپیں مار کر چلے جاتے ہیں۔ان کو سوچنا چاہیے اور اس حدیث کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے اس لیے جو بھی جلسے پر آنے والے ہیں اس نیت سے آئیں کہ ان دنوں میں خاص طور پر اپنی زبانوں کو ذکر الہی سے تر رکھیں گے۔پھر ایک روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کچھ لوگ اکٹھے ہوں اور بغیر اللہ کا ذکر کئے الگ ہو جائیں تو ضرور ان کا حال ایسا ہی ہے گویا کہ وہ مردہ گدھے کے پاس سے واپس آرہے ہیں۔اور ان کی مجلس ان کے لیے افسوسناک بات بن جائے گی۔(مسند احمد باقی مسند المكثرين باقی مسند السابق) گویا ایسی مجالس جو ہوں تو دینی اغراض کے لیے لیکن ان کی برکات سے فیضیاب نہ ہور ہے ہوں ، ان سے فائدہ نہ اٹھا ر ہے ہوں اور اپنی علیحدہ مجلسیں لگانے کی وجہ سے ان کا یہ حال ہورہا ہے کہ بجائے اس کے کہ ان دینی مجالس سے فائدہ اٹھائیں۔جہاں اللہ اور رسول کا ذکر ہو رہا ہے الٹا مردار کی بد بولے کر واپس جا رہے ہوتے ہیں، یعنی بجائے فائدے کے نقصان اٹھا رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اس سے بچائے۔۔۔۔۔پھر آجکل گرمیوں میں اب یہاں بھی کافی گرمی ہونے لگ گئی ہے، پسینہ کافی آتا ہے تو خاص طور پر یہ اہتمام ہونا چاہیے کہ ( بیوت الذکر ) میں یہاں کیونکہ قالین بھی بچھے ہوتے ہیں اس لیے جرابوں کی صفائی کا ضرور خیال رکھنا چاہیے۔روزانہ دھلی ہوئی جراب پہنی چاہیے۔تا کہ مجلس میں بیٹھے ہوئے دوسرے لوگ ( کئی قسم کی طبائع کے لوگ ہوتے ہیں ) بھی برا نہ منائیں۔مجالس کے آداب کے ضمن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ایک حدیث میں روایت اس طرح ہے یقینا اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو نا پسند کرتا ہے۔پس جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو الحمد للہ کہے اور ہر وہ شخص جو الحمد للہ کی آواز سنے اسے چاہیے کہ وہ کہے يَرْحَمُكَ اللہ یعنی اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے۔جہاں تک جمائی کا تعلق ہے کہ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو اپنی استطاعت کے مطابق اسے دبانے کی کوشش کرے، بعض لوگ تو نہیں دبا سکتے لیکن کوشش یہ کرنی