مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page iv
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی رہنا چاہیے۔ہر وقت مستعد اور سرگرم عمل رہنا چاہیے اور یہ دعا بھی کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس ذمہ داری کو کما حقہ بجالانے کی توفیق عطا فرمائے۔لیکن ہم استحکام خلافت کی اہم ذمہ داری سے اس وقت تک عہدہ برآ نہیں ہو سکتے جب تک کہ ہم اپنے آپ کو کلیۂ خلافت سے وابستہ نہ کریں اور خلیفہ وقت کے ہر حکم کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم نہ کر لیں۔یہاں تک کہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کا ہر عمل خلیفہ وقت کے ارشادات کے تابع ہو جائے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں:۔امام اور خلیفہ کی ضرورت یہی ہے کہ ہر قدم جو مومن اٹھاتا ہے اس کے پیچھے اٹھاتا ہے، اپنی مرضی اور خواہشات کو اس کی مرضی اور خواہشات کے تابع کرتا ہے، اپنی تدبیروں کو اس کی تدبیروں کے تابع کرتا ہے، اپنے ارادوں کو اس کے ارادوں کے تابع کرتا ہے، اپنی آرزوؤں کو اس کی آرزوؤں کے تابع کرتا ہے اور اپنے سامانوں کو اس کے سامانوں کے تابع کرتا ہے۔اگر اس مقام پر مومن کھڑے ہو جائیں تو ان کیلئے کامیابی اور فتح یقینی ہے۔(الفضل 4 ستمبر 1937ء) 66 اسی طرح آپ فرماتے ہیں:۔خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں ،سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم ، وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اس وقت تک سب خطبات رائیگاں، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں (الفضل 31 جنوری 1936ء) ناکام ہیں۔“ ہماری تمام ترقیات اور کامیابیوں کا دارو مدار خلافت سے وابستگی اور اس کی سچی اطاعت میں ہی پنہاں ہے۔جب تک ہم خلیفہ وقت کی اطاعت کا جو اپنی گردنوں میں نہیں ڈالیں گے ہم اس مقصد عظیم کو حاصل نہیں کر سکتے جس کے لئے اس سلسلے کو قائم کیا گیا ہے۔اور وہ مقصد یہی ہے کہ دین حق کو تمام ادیان پر غالب کر دیا جائے اور ساری دنیا کو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آپ کے جھنڈے تلے جمع کر دیا جائے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :- ” ہم اور ہماری آنے والی نسلیں ، ہمارے بوڑھے اور ہمارے بچے چین نہیں لیں گے جب