مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page iii
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی دیباچه اللہ تعالیٰ کے احسانات ہم پر اس قدر ہیں کہ اُس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔اس کے بے پایاں احسانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اُس نے محض اپنے فضل سے ہمیں امام آخر الزمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے اور آپ پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی۔اور پھر آپ علیہ السلام کے بعد آپ کی جماعت میں قدرت ثانیہ یعنی خلافت حقہ کا نظام قائم فرمایا اور نہ صرف ہمیں بیعت خلافت کی توفیق عطا فرمائی بلکہ خلافت کے خدمت گزاروں میں شامل فرمایا۔الحمد للہ۔اللہ تعالیٰ کا مزید احسان یہ ہے کہ اُس نے خلافت کے دائگی اور قیامت تک کے لئے منقطع نہ ہونے کی بشارت بھی دی تا کہ ہم خود بھی اور ہماری آئندہ آنے والی نسلیں بھی خلافت کے ذریعہ جاری ہونے والے فیوض و برکات سے ہمیشہ ہمیش کے لئے بہرہ مند اور فیضیاب ہوتی رہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں۔لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے۔اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیر وہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔سوضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائی وعدہ کا دن ہے۔وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفا دار اور صادق خدا ہے وہ سب کچھ تمہیں دکھلائے گا جس کا اس نے وعدہ فرمایا ہے۔“ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 305-306) اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ اور بشارت کے بعد کسی احمدی کو کبھی کوئی مایوسی کا خیال بھی دل میں نہیں لانا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو خلافت کے ساتھ وابستہ و پیوستہ کر کے اس کے استحکام اور ترقی کے لئے کوشاں