مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 178
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 178 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی امتحان بھی ہوا اور دینی معلومات کا بھی امتحان ہوا۔تو اس ساری چیزوں کو جو آپ نے یہاں سیکھیں ہیں وہ اس لیے تھی کہ آپ کو تھوڑی سی عادت ڈالی جائے۔تاکہ شوق پیدا ہو اور گھر جا کے بھی آپ دین سیکھیں۔علم سکھانے والے کا عزت واحترام کریں پھر آپ نے یہاں آداب سیکھے یا Etiquettes جنہیں کہتے ہیں۔اس میں ایک یہ بھی ہے کہ آپ کو کوئی بھی علم سکھانے والا۔چاہے وہ دینی علم ہو یا دوسرا علم جو بھی آپ سیکھتے ہیں۔جو بھی آپ کو سکھانے والے ہیں ان کا عزت واحترام کریں آپ کی جماعت میں آپ کی مجلس میں ناظم اطفال ہیں یا منتظم اطفال ہیں جو آپ کی دینی تربیت کی بھی کوشش کرتے ہیں ایک تنظیم کے تحت ان سے پورا پورا تعاون کریں۔ان کی عزت کریں۔ان کا احترام کریں۔اسی طرح اپنے سکول میں ٹیچرز کا بھی احترام اور عزت کریں۔اور ایک احمدی بچے کے لیے خاص نشان ہونا چاہئیے کہ وہ اپنے استادوں کی بہت عزت کرتے ہیں۔دین سیکھنا بہت بڑی نیکی ہے پھر دین سیکھنا ایک اتنی بڑی نیکی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے کوئی اچھی بات کا ارادہ کرتا ہے یہ چاہتا ہے کہ وہ شخص نیک بنے اور نیکیاں کرے اور اللہ میاں کا پیار حاصل کرے تو اس کے ذہن کو دین سکھانے کی طرف متوجہ کرتا ہے، اس طرف توجہ دلاتا ہے۔اس کے اندر شوق پیدا ہوتا ہے کہ وہ دین سیکھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو یہ دین کی تعلیم جو ہے تقسیم کرنے کے لیے آیا ہوں۔اور عطا کرنے والی ذات جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ہے، اس لیے جب بھی آپ لوگ دین سیکھ رہے ہوں، پڑھ رہے ہوں۔قرآن شریف پڑھ رہے ہوں کسی سے بھی ، خود پڑھ رہے ہیں یا نیا نیا پڑہنا شروع کیا ہے یا قرآن شریف کا ترجمہ پڑھنا شروع کیا ہے، اس کی Translation سیکھ رہے ہیں یا حدیث پڑھ رہے ہیں یا کوئی اور دینی کتاب پڑھ رہے ہیں تو ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا فضل ما نگیں اس سے دعا بھی کیا کریں کہ اللہ میاں آپ کو جو کچھ آپ پڑھ رہے ہیں اس کو سیکھنے کی اور سمجھنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔کیونکہ دین سکھانے والی ذات جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔خود یہ نہ سمجھیں کہ کتابیں پڑھ کے صرف آپ کو خود ہی علم آ جائے گا۔