مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 177
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 177 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی نیشنل تربیتی کلاس برطانیہ سے خطاب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 31 دسمبر 2003ء کو نیشنل تربیتی کلاس برطانیہ سے خطاب کرتے ہوئے ، تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔تربیتی کلاس کا مقصد دین کا علم سیکھنا ہے یہ تربیتی کلاسیں جو منعقد کی جاتی ہیں جماعت احمدیہ میں ان کا مقصد یہ ہے کہ آپ دین کا علم سیکھیں۔دنیا کی تعلیم کے لیے تو سکولوں میں جاتے ہیں۔چھ سات گھنٹے سکول میں رہتے ہیں، وہاں پڑھتے ہیں۔پھر گھر آ کے بھی سکول کی پڑھائی کر رہے ہوتے ہیں۔دین کی پڑھائی کی طرف کم توجہ ہوتی ہے۔حالانکہ دنیا کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دین کی تعلیم سیکھنے کی طرف بھی باقاعدگی سے توجہ رہنی چاہیے۔اس لیے پہلی چیز جو ہے، دین سکھانے کے لیے ایک احمدی بچے کے لیے، وہ ہے قرآن شریف کا پڑھنا۔مجھے یہ بتا ئیں۔ہاتھ کھڑے کریں وہ بچے جو روزانہ قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہیں۔Thirty Percent (30 فیصد ) میرا خیال ہے۔تو باقی بھی، دین سیکھنا جو ہے نا بہت ضروری چیز ہے اور اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بڑی خاص تاکید فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ کا بھی حکم ہے۔وہ تو ہے ہی کہ دین سیکھو اور دین کے معاملے میں سنجیدگی اختیار کرو۔یہ نہیں ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کرنی ہے صرف اس لیے کہ امی ابو نے کہہ دیا ہے کہ ضرور صبح پڑھنا ہے یا میں نے کہہ دیا ہے کہ تلاوت کیا کریں پوچھا جائے گا۔یا آپ کی جو تنظیم ہے جماعت والے پوچھتے ہیں خدام الاحمدیہ والے یا ناظم اطفال پوچھیں گے۔تو بلکہ غور سے پڑھیں شوق سے پڑھیں اس لیے کہ ہم نے دین سیکھنا ہے اور اس میں سنجیدگی اختیار کریں، پھر یہاں جو آپ لوگوں نے تین چار دنوں میں سیکھا ہے ( چار دن کا ہی کورس تھا نا ؟) تو اس میں آپ کو قرآن شریف بھی پڑھایا گیا حدیث بھی پڑھائی گئی۔اس کا