مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 73 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 73

مشعل راه جلد پنجم 73 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی فِي قُلُوبِكُمْ وَإِنْ تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُمْ مِّنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (الحجرات: ۱۵) یعنی بادیہ نشین وہ لوگ جو گاؤں میں دیہاتوں میں رہتے تھے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے تو کہہ دے کہ تم ایمان نہیں لائے لیکن صرف اتنا کہا کرو کہ ہم مسلمان ہو چکے ہیں۔جبکہ ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔اور اگر تم اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرو تو وہ تمہارے اعمال میں کچھ بھی کمی نہیں کرے گا۔یقیناً اللہ انہیں بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔تو یہ بتا دیا کہ مسلمان ہونے میں اور مضبوط ایمان دلوں میں قائم ہونے میں بہت فرق ہے۔مضبوط ایمان تو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تمہارا ہر عمل ہر فعل ہر کام جو تم کرتی ہو خدا کی رضا کی خاطر کرو۔اللہ کا خوف اور خشیت ہر وقت تمہارے ذہن میں رہے۔تقویٰ کی باریک سے باریک راہیں ہمیشہ تمہارے مدنظر ر ہیں۔اور تم ان پہ قدم مارے والی ہو۔اپنے بچوں کے دلوں میں بھی ایمان اس حد تک بھر دو کہ انکا اوڑھنا بچھونا بھی صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہو۔ہاں جو بڑے بڑے احکامات ہیں، فرائض ہیں، ان کو مان کر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں داخل ہو چکے ہو۔یہ اطاعت تم کرتے رہو اس کا بھی اجر اللہ تعالیٰ تمہیں دے گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: اسلمنا ہمیشہ لاٹھی سے ہوتا ہے یعنی طاقت سے۔جب لوگ دیکھتے ہیں کہ کثرت سے لوگ قبول کر رہے ہیں تو اس وقت قبول کر لیا جاتا ہے۔اور امنا اس وقت ہوتا ہے جب خدا تعالیٰ دل میں ڈال دے۔ایمان کے لوازم اور ہوتے ہیں اور (دین حق ) کے اور۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس وقت ایسے لوازم پیدا کئے کہ جن سے ایمان حاصل ہو۔پھر فرماتے ہیں ” مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اعمال انکے ایمان پر گواہی دیتے ہیں جن کے دل پر ایمان لکھا جاتا ہے۔اور جو اپنے خدا اور اسکی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں اور تقویٰ کی باریک اور تنگ راہوں کو خدا کے لئے اختیار کرتے اور اسکی محبت میں محو ہو جاتے ہیں اور ہر ایک چیز جو بت کی طرح خدا سے روکتی ہے خواہ وہ اخلاقی حالت ہو یا اعمال فاسدا نہ ہوں یا غفلت اور کسل ہو سب اپنے تئیں دور ہو جاتے ہیں۔