مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 47

مشعل راه جلد پنجم 47 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی کلامی اور ایسی باتوں کے سننے میں استعمال نہ کرے جن سے منع کیا گیا ہے۔نیز نخش کلامی اور جھوٹی باتوں کے سننے سے پر ہیز کرے۔پھر دوسری بات لکھتے ہیں کہ:- جہاں تک امانت کا تمام مخلوقات کو ادا کرنے کا تعلق ہے اس میں ماپ تول میں کمی کو ترک کرنا، اور یہ کہ لوگوں میں ان کے عیوب نہ پھیلائے جائیں اور امراء اپنی رعیت کے ساتھ عدل سے فیصلے کریں۔عوام الناس کے ساتھ علماء کے عدل سے مراد یہ ہے کہ وہ عوام کو باطل تعصبات پر نہ ابھاریں بلکہ وہ ایسے اعتقادات اور اعمال کے بارہ میں ان کی ایسی رہنمائی کریں جو ان کی دنیا اور آخرت میں ان کے لئے نفع رساں ہوں۔۔اب آج کل کے علماء ہماری بات تو نہیں سنتے۔علامہ فخر الدین رازی کی اس بات پر ہی غور کریں اور اس پر عمل کریں تو دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے۔پھر تیسری بات لکھتے ہیں کہ جہاں تک امانت کا تعلق انسان کے اپنے نفس کے بارہ میں ہے تو وہ یہ ہے کہ انسان اپنے لئے صرف وہی پسند کرے جو زیادہ نفع رساں اور زیادہ مناسب ہو اس کے دین کے لئے اور دنیا کے لئے۔اور یہ کہ وہ اپنی خواہشات کا تابع ہوکر یا غضبناک ہوکر کوئی ایسا فعل نہ کرے جو اس کو آخرت میں تکلیف پہنچائے۔اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارہ میں دریافت کیا جائے گا۔ارشاد الہی يَا مُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الا مُنْتِ إِلَى أَهْلِهَا میں یہ سب ( تفسیر کبیر رازی) باتیں داخل ہیں۔اب اگر ہم دیکھیں تو یہ جو تین صورتیں بیان کی گئی ہیں ہر انسان کے معاملات میں تقریباً ان صورتوں کے گرد ہی اس کی زندگی گھوم رہی ہے۔لیکن اس آیت کے آخر پر جو بات بیان ہوئی ہے اس کی میں پہلے وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ اس آیت کے آخر پر فرماتا ہے کہ جو میں تمہیں حکم دے رہا ہوں وہ انتہائی بنیادی حکم ہے۔اگر تم اس پر عمل کرتے رہے تو کامیابیاں تمہاری ہیں۔ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ جب خدا تعالی تمہیں کسی بات کا حکم دیتا ہے تو حکم کر کے چھوڑ نہیں دیتا بلکہ تم پر گہری نظر رکھنے والا بھی ہے۔کہیں اس کے احکام کی ادائیگی میں تم خیانت تو نہیں کر رہے۔اگر خیانت کر رہے ہو تو اس کے جو منطقی نتائج سامنے آنے