مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 46
مشعل راه جلد پنجم 46 * ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تشہد تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد سورۃ النساء کی درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:۔إِنَّ اللَّهَ يَا مُرُكُمْ أَن تُؤدُّو الا منتِ إِلى اَهْلِهَا۔وَ إِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ - إِنَّ اللَّهِ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا پھر فرمایا:- (سورة النساء:۵۹) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یقینا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حقداروں کے سپر د کیا کرو اور جب تم لوگوں کے درمیان حکومت کرو تو انصاف کے ساتھ حکومت کرو۔یقیناً بہت ہی عمدہ ہے جو اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔یقیناً اللہ بہت سننے والا ( اور ) گہری نظر رکھنے والا ہے۔علامہ فخرالدین رازی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مومنوں کو تمام امور میں امانتوں کو ادا کرنے کا ارشاد فرمایا ہے۔خواہ وہ امور مذہب کے معاملات میں ہوں یا دنیوی امور اور معاملات کے بارہ میں ان کے نزدیک انسان کا معاملہ یا تو اپنے رب کے ساتھ ہوتا ہے یا بنی نوع انسان کے ساتھ یا اپنے نفس کے ساتھ اور ان تینوں اقسام میں امانت کے حق کی رعایت رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔آپ اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے معاملات میں امانت کی رعایت کرنے کا تعلق ہے تو اس کا تعلق ان افعال کے ساتھ ہے جن کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔یا جن افعال کے کرنے سے منع کیا گیا ہے ان کو ترک کرنے کے ساتھ۔پھر کہتے ہیں کہ جہاں تک زبان کی امانت کا تعلق ہے اس سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی زبان کو کذب بیانی ، غیبت، چغل خوری، نافرمانی، بدعت اور منش کے لئے نہ استعمال کرے۔اور آنکھ کی امانت یہ ہے کہ انسان آنکھ کو حرام کی طرف دیکھنے میں استعمال نہ کرے اور کانوں کی امانت یہ ہے کہ انسان ان کو بیہودہ