مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 48
مشعل راه جلد پنجم 48 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی چاہئیں جو نکلنے چاہئیں وہ تو نکلیں گے اور ساتھ ہی جو امانت تمہارے سپرد کی گئی ہے وہ بھی تم سے واپس لے لی جائے گی۔تم خدمت سے محروم کر دیئے جاؤ گے۔ایک اعزاز تمہیں ملا تھا وہ تم سے چھین لیا جائے گا کیونکہ جن کے تم نگران بنائے گئے ہو ان کی دعاؤں کو اگر وہ نیک اور متقی ہیں اللہ تعالی سنتا ہے اور اپنی مخلوق پر ظلم اور زیادتی کی تمہیں اجازت نہیں دے گا۔تو جیسے کہ پہلے میں نے بیان کیا ہے کہ وہ نصیحت ہے کیا جس پر تم نے کار بند ہونا ہے۔وہ باتیں ، وہ حکم ہے کیا جن پر ہم نے عمل درآمد کرنا ہے۔تو پہلی بات تو یہ ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کے سپر د کر و۔اب وہ کونسی امانتیں ہیں جو ہمارے پاس خدا تعالیٰ نے رکھی ہیں اور ہمیں حکم ہے کہ ان کے سپرد کرو جو کہ صحیح حقدار ہیں۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ :- حکومت وقت کی اطاعت کی جائے۔یہی رعایا کی لوگوں کی طرف سے ادائے امانت ہے اور پھر حکام کی طرف سے، افسران کی طرف سے امانت کا ادا کرنا، اپنی رعایا کی ، اپنے شہریوں کی حفاظت کرنا ، ان کے حقوق کا خیال رکھنا ، حکام اور افسران کی طرف سے امانت کی صحیح ادائیگی ہے۔ہمارے نظام جماعت میں عہد یداروں کا نظام مختلف سطحوں پر ہے۔اس زمانے میں ہر احمدی جہاں، جس ملک میں رہتا ہے اس ملک میں دنیاوی سطح پر امانتیں اہل لوگوں کے سپر د کر نے کی کوشش کرتا ہے ، ان تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔اور اس کا فرض ہے کہ اپنے اس فرض کی صحیح ادا ئیگی کرے اور حق دار لوگوں تک اس امانت کو پہنچائے وہاں نظام جماعت بھی ہر احمدی سے خواہ عہدیدار ہو یا عام احمدی اس سے یہی توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی امانتوں کی صحیح ادا ئیگی کرے۔امانت کا صحیح حق استعمال کریں اب سب سے پہلے تو افراد جماعت ہیں جو نظام جماعت چلانے کے لئے عہد یدار منتخب کرتے ہیں۔ان کا کیا فرض ہے ، انہوں نے کس طرح جماعت کی اس امانت کو جوان کے سپرد کی گئی ہے صحیح حقداروں تک پہنچانا ہے۔تو اس کے لئے جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں انتخابات سے پہلے قواعد بھی پڑھ کر سنائے جاتے ہیں، عموماً یہ جماعتی روایت ہے۔دعا کر کے اپنے ووٹ کے صحیح استعمال کی کوشش کی جاتی ہے اور پھر آپ کس کو ووٹ دیتے ہیں یا کم از کم یہی ایک متقی کی کوشش ہونی چاہیے کہ اس کو ووٹ دیا جائے جو آپ کے نزدیک سب