مشعل راہ جلد سوم — Page 624
624 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم طور پر یہ ذہن میں رہے کہ بہت سے ہمارے سننے والے ان پڑھ بھی ہیں، بہت محدود علم رکھنے والے بھی ہیں، تو اتنی زیادہ مجھے محنت بھی درکار ہو گی ان کو سمجھانے کے لئے اتنا زیادہ وقت بھی چاہیے ہوگا۔تو یہی وجہ ہے کہ میں نے کہا تھا کہ میں نے کوشش کی تھی کہ وقت تھوڑا لوں۔میں تھوڑے وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صرف چند تحریرات پڑھ کر سناؤں کیونکہ ہر تحریر کا مضمون کھولا جائے تو بہت لمبا وقت درکار ہے۔بہر حال اب دیکھیں اس عبارت کی شان۔دس ہزار صحابہ کو پہلی کتابوں میں ملائکہ لکھا ہے“۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو دس ہزار قد وی آپ کو عطا کئے گئے تھے ان کو پرانی کتابوں میں قدوسی بھی لکھا ہے یعنی وہ خدا کی طرف سے پاک شدہ تھے اور ملائکہ بھی لکھا ہوا ہے۔یہی حالت ملائکہ کی آپ میں میں دیکھنی چاہتا ہوں اس کے سوا تو جماعت بن ہی نہیں سکتی۔اور اس کی تفصیل کو سمجھائے بغیر اتنی بات تو میں آپ کو سمجھا سکتا ہوں کہ نظام انسانی میں سے کچھ بھی اگر حصہ مفلوج ہو جائے تو ساری عمر کے روگ لگ جاتے ہیں۔اتنی بات تو ہر ان پڑھ بھی سمجھ سکتا ہے۔وہ نہیں جانتا کہ اس کو کیا ہوا ہے، کہاں کوئی کل ٹیڑھی ہوئی ہے مگر یہ جانتا ہے کہ ایک ہی بیماری نے سارے جسم کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، کہیں کا نہیں چھوڑا اس کو۔تو اگر ایک بھی بیماری جماعت میں کہیں لگ جائے تو اندازہ کریں کہ پھر باقی جماعت کا کیا حال ہوگا۔ہر بیماری سے پر ہیز ضروری ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں یہ زور دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے اتنے احکام ہیں ان میں سے ہر حکم پر عمل ضروری ہے کسی کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے ، یہ مراد ہے اس سے۔ہرگز یہ مراد نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک ساری جماعت اتنے اعلیٰ درجے تک پہنچ چکی ہے کہ ہر حکم پر پوری طرح ایمان بھی رکھتی ہے اور عمل بھی کرتی ہے مگر اگر عمل نہیں کرتی لیکن خدا کا خوف رکھتی ہے، اگر ڈرتی ہے کہ میرے عمل میں کمی کے نتیجے میں مجھے نقصان نہ پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے عمل کی کمزوری سے جماعت کو نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔یہ وہی خوف ہے جس کو تقومی کہتے ہیں۔پس اس بیماری کا علاج بھی تقویٰ ہے۔کمزوریاں تو بے شمار ہیں جن میں ہم مبتلا ہیں اس کے باوجود نظام جماعت کی حفاظت کی خاطر لازم ہے کہ انسان اپنی کمزوریوں سے ڈرتا رہے اور اللہ کے حضور یہ عرض کرتا رہے کہ ان کمزوریوں کا بداثر جو دوسروں پر پڑ سکتا ہے اور قانون قدرت کے طور پر پڑنا چاہیے، مجھے اس سے محفوظ رکھ اور میں دشمن کے لئے ابتلاء کا موجب نہ بنوں۔حضرت مسیح علیہ السلام نے اسی مضمون کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص کی وجہ سے کوئی ٹھوکر کھا جائے تو بہتر تھا کہ وہ شخص پیدا ہی نہ ہوتا کیونکہ اس نے بڑا جرم کمایا ہے۔پس