مشعل راہ جلد سوم — Page 625
625 مشعل راه جلد سوم ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی کمزوری کے باوجود اعمال کی اس حد تک حفاظت کرنا کہ وہ دوسرے جسم کے حصے پر یعنی جماعت پر اثر انداز نہ ہوں یہ انتہائی ضروری ہے اور یہ بھی ہو گا جب آپ اولوالامر کے احکامات کو نظر انداز کریں گے اور تخفیف کی نظر سے دیکھیں گے۔اولوا الامر سے مراد اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولوا الامر کے متعلق دیگر تحریرات میں سے بعض حصے آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ، یعنی اس وقت مسلسل تحریر نہیں پیش کر سکتا کیونکہ مضمون بہت لمبا ہو جائے گا مگر بعض حصے میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔اولوا الامر سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے“۔یہ فرق بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔روحانی طور پر امام الزمان اولوا الامر ہے لیکن مادی لحاظ سے اور جسمانی لحاظ سے بادشاہ بھی اولی الامر ہے۔اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے وہ ہم میں سے ہے۔( ضرورة الامام صفحه ۲۳) تو یہ خیال کہ اولوا الا مر صرف روحانی نظام کا بادشاہ ہے۔یعنی ہمارے نقطہ نگاہ سے حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور جسمانی لحاظ سے اس کے سوا کوئی ہم پر اولوا الا مرنہیں ہے یہ خیال غلط ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہی کے فہم قرآن کے نتیجے میں جس سے بہتر فہم قرآن ممکن ہی نہیں ہر بادشاہ، ہر سیاسی قوم کا راہنما جو حکم ہو جائے ، جس کو وہ مقام حاصل ہو جائے کہ ساری قوم کو اس کی بات ماننا ضروری ہو وہ اولوالامر ہے اور اس کی اطاعت فرض ہے خواہ وہ دماغی لحاظ سے کیسا ہی ہو، خواہ وہ عقلی لحاظ سے ایک پاگل دکھائی دے، خواہ وہ روحانی لحاظ سے انتہائی ظالم اور حد سے گزرنے والا ہو۔ان تمام امور کا حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ایک ایک کر کے تذکرہ فرمایا ہے تا کہ کسی کو بہانہ ہاتھ نہ آئے کہ ایسا اولوالامر ہو تو ہم کیسے اطاعت کریں گے۔فرمایا ہر صورت میں اطاعت کرنی ہے۔صرف ایک صورت ہے کہ اس کی اطاعت سے آپ باہر نکل جائیں کہ اگر روحانی بادشاہ کا حکم اس سے متضاد ہوا اور بیک وقت روحانی بادشاہ کے احکام کے دائرے میں رہتے ہوئے اس پر عمل ممکن نہ ہو تو پھر حضرت رسول اللہ