مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 623 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 623

623 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم جسمانی سو فیصد اس حکم کی تعمیل پر مجبور ہے۔بیماری اس کو کہتے ہیں کہ حکم ہوا اور عمل نہ ہو جہاں یہ واقعہ ہوا وہاں بیماری شروع ہوگئی۔سارا نظام جسمانی بے کار ہو کر رہ جاتا ہے اگر وہ آمر جود ماغ میں خدا نے بٹھایا ہوا ہے اس کے ماتحت اس کی باتوں پر عمل نہ کریں اور اس کی باتوں کا سارے نظام جسمانی تک پہنچانے کا نظام اتنا باریک ہے اور اتنا تفصیلی ہے کہ اگر کہا جائے کہ ارب ہا ارب واسطے بیچ میں موجود ہیں اور ان میں سے ہر واسطے کی تفصیل موجود ہے تو یہ مبالغہ نہیں ہے، یہ کم ہوگا۔جتنا بھی مطالعہ آپ کر کے دیکھ لیں، میں نے بہت مطالعہ کر کے تفصیل سے اس مضمون کو سمجھنے کی کوشش کی ہے یعنی سائنس دان کی زبان سے، بالآخر اس نتیجہ پر پہنچا کہ سائنس دان تفصیل تو بیان کر دیتے ہیں مگر وجوہات کہ کیوں ایسا ہو رہا ہے، کیوں ایک با ربط نظام ہے جو کائنات کے نظام کی طرح با ربط ہے ، کیوں ایسا ہوا ہے یہ بیان نہیں کرسکتا۔یہ جانتے ہیں کہ اگر دماغ کے اندر جو اولوالامر بیٹھا ہوا ہے وہ سارا جسم جو مامور ہے اس کو فرشتوں کی طرح اس کی تعمیل کرنی چاہیے اگر وہ تعمیل سے کسی ایک جگہ بھی، ایک معمولی سے حصے میں بھی محروم رہ جائے گا تو سارا نظام تباہ ہوسکتا ہے۔اب بعض لوگ ایسے فالج کا شکار ہو جاتے ہیں کہ صرف دماغ کام کر رہا ہے اور سارا دھڑ کلیتہ مفلوج ہے تو کیا چیز ہے وہ۔صرف اس رابطے کی کمی ہے جو خدا تعالیٰ نے قائم فرمایا لیکن مامور کو آمر حکم دے رہا ہے اور اس کو آواز ہی نہیں پہنچ رہی یا اس کی پرواہ نہیں کر رہا جس کے نتیجے میں کلدیہ تمام نظام مفلوج ہو کے رہ جاتا ہے۔ایک چھوٹے سے رابطے کی کہیں کمی واقعہ ہوئی ہے۔یہی حال جماعت کا ہے۔اگر معتمد جس کو حکم دیا جاتا ہے آگے اس حکم کو جماعت کو نہ پہنچائے تو ساری جماعت مفلوج ہو جائے گی اور یہ خرابیاں میں نے بہت جگہ دیکھی ہیں۔کئی دفعہ سمجھانا پڑتا ہے کہ آپ سے جو کچھ کہا گیا ہے، امراء ہوں یا جو بھی ہوں وہ میرے لحاظ سے تو معتمد ہیں، ان کو میں بارہا سمجھا تا ہوں کہ خدا کے واسطے جو کچھ کہا گیا ہے اس کو ضرور ان تک پہنچائیں جن کی خاطر کہا گیا ہے لیکن غفلت ہو جاتی ہے اور تفصیل سے الا سب تک یہ بات نہیں پہنچائی جاتی جن تک یہ بات پہنچائی جانی ضروری ہے اور نتیجہ ایک فالج کا سا منظر دکھائی دیتا ہے جو نظام، جسم یا نظام جسمانی کی مجھ سے مشابہت رکھتا ہے۔پس دیکھیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر کتنی باریک اور کتنی لطیف ہے۔اگر اس کی تفاصیل میں میں جاؤں تو ایک گھنٹے کا خطبہ بھی بہت چھوٹا ہو جائے گا، کئی گھنٹوں کے خطبے بھی چھوٹے ہونگے۔جس حد تک میں نے اس مضمون کو سائنسی نقطہ نگاہ سے سمجھا ہے مجھے لمبا عرصہ درکار ہے کہ میں اس کی تمام تفاصیل جس حد تک مجھے علم ہے ، ہر تفصیل کا تو مجھے علم ہی نہیں ہے، جو تھوڑا سا مجھے علم ہے اس کو اگر باریکی سے سمجھنے کی کوشش کروں اور خاص