مشعل راہ جلد سوم — Page 498
مشعل راه جلد سوم 498 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی اپنے دلوں کے باطنی مربیوں کو بیدار کریں پس میں بڑے درد کے ساتھ آپ سے کہتا ہوں اپنے دل کے مربیوں کو بیدار کریں، ان کو آوازیں دیں اور ان کو اٹھائیں۔اپنے دلوں سے وہ ناصح پیدا کریں جو قرآن کی آواز میں آپ کو نصیحت کرنے والے ہوں۔پھر دیکھیں وہ لوگ جو آپ کی خاطر عہدوں کو سنبھالتے ہیں اور آپ کے دروازے کوکھٹکھٹاتے ہیں اور اپنے اوقات کو قربان کرتے ہیں اور اپنی عزتوں کو ہتھیلیوں پہ لئے ہوئے آپ کے گھروں تک پہنچتے ہیں آپ ان کے دلوں کو ٹھیس لگانے والے نہیں بن سکتے۔آپ یہ پسند کریں گے کہ آپ اس سے پہلے پیدا ہی نہ ہوئے ہوتے بجائے اس کے کہ خدا کی خاطر کام کرنے والوں کے دلوں کو آپ ٹھیس پہنچائیں اور ان کی بے عزتی کا کسی قسم کا خیال دل میں لائیں۔آپ ان کے سامنے جھکیں گے تب بھی آپ کے دل میں ایک شرمندگی کا احساس پیدا ہوگا۔آپ سوچیں گے کہ دیکھو کتنی دور سے یہ شخص چل کر میری اصلاح کے لئے ، میری خاطر آیا ہے۔میرے دل میں بھی آواز ہے مگر کمزور ہے ، میں طاقت نہیں پاتا۔آپ اس سے دُعا کی درخواست کریں گے اس کا شکریہ ادا کریں گے اور پھر مجھے بھی لکھیں گے جیسا کہ بعض لکھتے ہیں اور خود بھی دعائیں کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔یہ اصلاحوں کا سفر بہت ہی لمبا اور بہت ہی کٹھن سفر ہے۔قدم قدم پر مشکل منازل مشکل رستے ہیں، مشکل موڑ ہیں ، سخت بلندیاں ہیں جن کو طے کرنا صعوبت کا کام ہے، پتھر ہیں پھر گڑھے ہیں، پھر کھڑے ہیں، کئی قسم کے خطرات ہیں۔اے خدا! تو ہماری مددفرما اور وہ لوگ جو ہماری مددفرما رہے ہیں ہمیں ان کا احسان مند بنا ان کا ناشکرا نہ بنا اور ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم اپنے وجود کا سفر کریں، اپنی ذات کا سفر کریں۔ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم اپنے گھروں کے ماحول کو جنت بنادیں اور گھروں کا ماحول اُسی صورت میں جنت بن سکتا ہے جب حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی نقل اتاریں۔نقل اتارنے کا لفظ میں عمدا استعمال کر رہا ہوں۔بعض باتیں نقل کے بغیر آتی نہیں ہیں۔وہ آپ کی ہو جائیں گی، آپ کے اخلاق بن جائیں گی لیکن اس سے پہلے آپ کو نقل مارنی ہوگی۔یہ سوچنا ہو گا کہ میری جگہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے تو وہ گھر کی اس صورت حال میں کیسے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ، کیا طرز عمل اختیار فرماتے۔دیکھیں بچے نقل سے سیکھتا ہے۔آپ اُس کو ایک بات کہتے ہیں تو تلے منہ سے وہ بات بیان کرتا ہے اور