مشعل راہ جلد سوم — Page 499
مشعل راه جلد سوم 499 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ اگر چہ وہ غلط کرتا ہے لیکن نقل مارتے مارتے آہستہ آہستہ وہ مشاق ہو جاتا ہے اور پھر بعض دفعہ وہ اپنی طرز گفتگو میں آپ سے بھی زیادہ مہارت اختیار کر لیتا ہے، فصاحت و بلاغت اختیار کر لیتا ہے۔پس نقل کے ذریعے انسان اپنی اصلاح کرتا چلا جاتا ہے اور نقل کی حالت میں جو کمزوریاں ہیں وہ بُری نہیں معلوم ہوتیں بلکہ اچھی لگتی ہیں۔کئی لوگ ملاقات کے وقت اپنے بچے لے کر آتے ہیں تو بڑا لطف آتا ہے یہ دیکھ کر کہ کہتے ہیں جی سناؤ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ فلاں شعر سنا ؤ فلاں حدیث سناؤ اور بعض دفعہ وہ ایسی توتلی زبان سے کہتا ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ کیا کہہ رہا ہے اور ماں باپ بڑے فخر سے محبت سے بچے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کمال کر دیا۔اس سے زیادہ کیا اچھی آواز کسی نے سنی ہوگی جو اس بچے کے منہ سے نکل رہی ہے۔اور واقعی پیاری لگتی ہے۔پھر مجھے ترجمہ کر کے سناتے ہیں۔ویسے مجھے پتہ نہیں لگتا بعض دفعہ کہ کیا کہہ رہا ہے اُن کو بتانا پڑتا ہے کہ اس نے لا الہ کہا تھا اور مجھے بھی پیار آتا ہے۔حالانکہ نقل خواں ہے لیکن نیت خالص ہے۔پاکیزگی اور سچائی کے ساتھ نقل اتار رہا ہے۔محبتوں، دعاؤں اور انکساریوں کے سفر پس میں یہ نہیں کہتا کہ ایک ہی دن میں آپ حضرت محمد مصطفے کے اخلاق کو اپنا سکیں گے۔ایک لمبی محنت کا کام ہے، لمبا سفر ہے لیکن نقل تو اتارنی شروع کریں۔جب اپنی بیویوں سے سلوک کرتے ہیں سوچا تو کریں، سیرت کی تقاریر میں آپ نے کیا سن رکھا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کیسے ان کی ناز برداریاں فرمایا کرتے تھے۔کیسے کیسے بعض دفعہ ان سے تکلیف کے کلے سن کر بھی صبر کیا کرتے تھے۔کس طرح پیارے انداز میں ان کو نصیحت کیا کرتے تھے۔کس طرح کاموں میں ان کے ساتھ شامل ہو جایا کرتے تھے۔کس طرح روز مرہ کے کاموں میں ان کی مددفرمایا کرتے تھے۔ان کا ہاتھ بٹاتے تھے بلکہ جب وہ آپ کی خدمت کرنا چاہتی تھیں تب بھی آپ اُن سے چیزیں لے کر اپنی خدمت خود کیا کرتے تھے۔یہ تصور بھی تو کبھی ذہن میں آنا چاہیے۔جب آپ یہ سوچیں گے تو اچانک آپ کا برتا ؤ اپنی بیویوں سے بالکل مختلف ہو جائے گا۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بچوں کے لئے کیسے تھے، اپنے بڑوں کے لئے کیسے تھے، اپنی رضاعی والدہ کے لئے کیسے تھے، دنیا کے دوسرے انسانوں کے لئے کیسے