مشعل راہ جلد سوم — Page 497
497 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم میں داخل ہوا وہ دروازہ تکلیف کا دروازہ تھا۔اس برش نے جو ایک تصویر بنائی تھی اس تصویر کے پیچھے ایک پورا منظر تھا جو موجود تھا اور اس پس منظر کے رستے سے میں اس منظر میں داخل ہوا اور میں نے سوچا کہ ابھی جماعت میں یہ بھی کمزوری ہے اور یہ بھی کمزوری ہے اور یہ بھی کمزوری ہے۔تب میں عاجزی سے اپنے خدا کے حضور جھکا کہ اے خدا! مجھ میں تو کوئی طاقت نہیں کہ میں ان سب کمزوریوں کی اصلاح کر سکوں۔میں تو ایک عاجز بندہ ہوں۔ساری عمر اپنی کمزوریوں کی اصلاح نہیں کر سکا۔تو میری مددفرما، تو مجھ پر رحم فرما ، تو اس جماعت کے دل بدل دے، ان کو پاک کر دے، ان میں سے فرشتے پیدا کر جو خود متقی ہوں اور تمام دنیا کو متقی بنانے والے ہوں اور جو متقیوں کے امام بن جائیں اور وہ فخر سے یہ عرض کر سکیں کہ اے ہمارے آقا! اے محمد رسول اللہ ! تجھے ساری دنیا کا امام بنایا گیا ہے۔ہم متقیوں کے امام ہوکر تیرے قدموں میں گرتے ہیں اور تجھے اپنا امام تسلیم کرتے ہیں۔تیری ساری عمر کی دعائیں قبول ہوجائیں، خدا نے تیری آواز کو عرش پر سنا اور آج تک ان دعاؤں کو قبول کرتا چلا جارہا ہے کہ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًاط پس دیکھیں ایک انسان ایک چھوٹی سی بات سے کس طرح سفر پر نکلتا ہے اور مختلف سفر اختیار کرتا چلا جاتا ہے۔مختلف نظارے اس کے سامنے بنتے چلے جاتے ہیں اور یہ سارے مناظر وہ ہیں جو ایک شاعر کے تصور کے مناظر نہیں ہیں۔ان کے پیچھے ایک لمبا پس منظر ہے گہرے تجربوں کا، یہ حقیقتوں کے نظارے ہیں۔ان میں کوئی جھوٹ نہیں، کوئی مبالغہ نہیں ، یہ سچائی کا سفر ہے۔اس لئے میں آپ کو متوجہ کرتا ہوں اور دل کی گہرائی کے ساتھ ، درد میں ڈوبے ہوئے دل کی گہرائی کے ساتھ متوجہ کرتا ہوں کہ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کریں اور اپنے روز مرہ کے اخلاق کی نگرانی کریں۔اپنے گھروں میں جس زبان میں آپ بچوں سے باتیں کرتے ہیں، جس زبان میں اپنی بیویوں سے بات کرتے ہیں اس زبان کی نگرانی کریں۔اگر آپ نے اپنی بیویوں کا احترام نہ سیکھا، اگر آپ نے اپنے بچوں کا احترام نہ سیکھا، اگر بہوؤں نے اپنی ساسوں کا احترام نہ سیکھا، اگر ساسوں نے اپنی بہوؤں کا احترام نہ سیکھا اور ان کے لئے نرمی اور شفقت پیدا نہ کی تو تمہارے گھر ہمیشہ جہنم کے نظارے پیش کرتے رہیں گے۔کس منہ سے ہم ان قوموں کو جنہوں نے اپنے گھر طرح طرح کے دکھوں کی وجہ سے جہنم بنائے ہوئے ہیں جنت کے گھروں کی خوشخبریاں دینے والے بن سکیں گے۔ہمیں کوئی اس کا حق حاصل نہیں۔