مشعل راہ جلد سوم — Page 702
702 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم نیکیوں کی امید اس سے کیا ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اولاد کی خواہش کو اس طرح پر قرآن میں بیان فرمایا ہے۔رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ إمـامـاً (الفرقان: ۷۵) یعنی خدا تعالیٰ تو ہم کو ہماری بیویوں اور بچوں سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرمادے اور یہ تب ہی میسر آسکتی ہے کہ وہ فسق و فجور کی زندگی بسر نہ کرتے ہوں بلکہ عباد الرحمن کی زندگی بسر کرنے والے ہوں اور خدا کو ہر شے پر مقدم کرنے والے ہوں اور آگے کھول کر كبر ديا وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاماً ـ اولا داگر نیک اور متقی ہو تو ان کا امام ہی ہوگا۔اس سے گویا متقی ہونے کی بھی دعا ہے“۔( ملفوظات جلد اول۔جدید ایڈیشن صفحہ 562-563) وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاماً سے مراد یہ ہے کہ آگے نسلاً بعد نسل متقی پیدا ہوتے چلے جائیں۔ان کا پیشوا بن جائیں، امام جو سب سے آگے ہوتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی ان معنوں میں امام تھے کہ آپ کے بعد نسلاً بعد نسل آپ کی نیکیاں جاری رہنی تھیں۔پھر فرماتے ہیں:۔” جب تک اولاد کی خواہش محض اس غرض کے لئے نہ ہو کہ وہ دیندار اور متقی ہو اور خدا تعالیٰ کی فرمانبردار ہو کر اس کے دین کی خادم بنے ، بالکل فضول بلکہ ایک قسم کی معصیت اور گناہ ہے اور باقیات صالحات کی بجائے اس کا نام باقیات سیئات رکھنا جائز ہوگا“۔یعنی نیک باقیات نہیں بلکہ بد باقیات۔لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں صالح اور خدا ترس اور خادم دین اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو اس کا یہ کہنا بھی نرا ایک دعویٰ ہی دعویٰ ہوگا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت میں ایک اصلاح نہ کرے۔اگر خود فسق و فجور کی زندگی بسر کرتا ہے اور منہ سے کہتا ہے کہ میں صالح اور متقی اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو وہ اپنے اس دعویٰ میں کذاب ہے۔صالح اور متقی اولاد کی خواہش سے پہلے ضروری ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کرے اور اپنی زندگی کو متقیانہ زندگی بنادے۔تب اس کی ایسی خواہش ایک نتیجہ خیز خواہش ہوگی اور ایسی اولا دحقیقت میں اس قابل ہوگی کہ اس کو باقیات صالحات کا مصداق کہیں۔لیکن اگر یہ خواہش صرف اس لئے ہو کہ ہمارا نام باقی رہے اور وہ ہمارے املاک و اسباب کی وارث ہو یا وہ بڑی نامور اور مشہور ہو، اس قسم کی خواہش میرے نزدیک شرک ہے“۔( ملفوظات جلد اول۔جدید ایڈیشن صفحہ 560-561)