مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 701 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 701

مشعل راه جلد سوم 701 اس کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ پس خود نیک بنو اور اپنی اولاد کے لئے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤ اور اس کو متقی اور دیندار بنانے کے لئے سعی اور دعا کرو۔جس قدر کوشش تم ان کے لئے مال جمع کرنے کی کرتے ہو اسی قدر کوشش اس امر میں کرو“۔( ملفوظات۔جلد چہارم جدید ایڈیشن صفحہ 444) ایک اور روایت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ بیان کرتے ہیں: پھر ایک اور بات ہے کہ اولاد کی خواہش تو لوگ بڑی کرتے ہیں اور اولا د ہوتی بھی ہے مگر یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ وہ اولاد کی تربیت اور ان کو عمدہ اور نیک چلن بنانے اور خدا تعالیٰ کے فرمانبردار بنانے کی سعی اور فکر کریں“۔یہ جو فرمایا ہے کبھی نہیں دیکھا گیا، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اولاد کی بے انتہاء خواہش، جاہلانہ خواہش رکھتے ہیں، ان کا ذکر فرما رہے ہیں۔ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنا عمل اور آپ کے ( رفقاء) کا عمل بالکل برعکس تھا اس بات سے کہ وہ اپنی اولاد کے نیک چلن کے بارہ میں بالکل بے پرواہ ہوں۔پس کبھی نہیں دیکھا گیا“ سے یہ مراد نہیں کہ ایسے نیک لوگ نہیں ہوتے جو اولاد کی اچھی تربیت نہیں کرتے۔پھر یہ بھی فرمایا: ” نہ کبھی ان کے لئے دعا کرتے ہیں اور نہ مراتب تربیت کو مدنظر رکھتے ہیں“۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنا سلوک تو یہ تھا کہ اپنی اولاد کے پیدا ہونے سے پہلے بھی ان کے لئے دعائیں کی ہیں۔بہت پہلے سے دعائیں شروع کی ہوئی تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعائیں کی تھیں تو کہاں حضرت ابراہیم کا زمانہ ، کہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔کتنا فاصلہ ہے سالوں کا مگر وہ دعائیں دیکھو کیسی قبول ہوئیں۔پس اپنی اولاد کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کے لئے دعا کیا کرو۔فرمایا:۔”میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں میں اپنے دوستوں اور اولا داور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔” بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو بری عادتیں سکھا دیتے ہیں۔ابتداء میں جب وہ بدی کرنا سیکھنے لگتے ہیں تو ان کو تنبیہ نہیں کرتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دن بدن دلیر اور بے باک ہوتے جاتے ہیں۔یاد رکھو کہ اس کا ‘ ایمان درست نہیں ہو سکتا جو اقرب تعلقات کو نہیں سمجھتا۔جب وہ اس سے قاصر ہے تو اور