مشعل راہ جلد سوم — Page 703
مشعل راه جلد سوم 703 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ سب سے ضروری بات اس نصیحت میں یہی ہے کہ ماں باپ جو اولاد کے لئے دعائیں بھی کرتے ہوں گے، خواہش بھی رکھتے ہوں گے کہ نیک ہوں اگر خود نیک نمونہ نہ دکھا ئیں ، گھر میں دنگا فساد ہو، گندی زبان ہو تو بچوں کو گھر کے دباؤ میں رہنے کے نتیجے میں اگر وہ عادت نہ بھی پڑے یعنی وہ عادت ماں باپ کے سامنے ننگی نہ ہومگر باہر جائیں گے تو چھپ کر پھر گالیاں دیں گے۔ماں باپ یہی سمجھتے ہیں کہ ان کی تربیت اچھی ہورہی ہے، ہم ان کو دبا کر رکھ رہے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ بچہ ماں باپ کے اندرونے کو سمجھتا ہے۔اگر ماں باپ بچے کے ساتھ وہ سلوک کریں جو دل سے چاہتے ہیں تو پھر خود بھی ویسا نہیں۔جب خود ویسا بنیں گے تو یقینا اللہ تعالیٰ ایسے بچوں کو پھر نیک بناتا ہے اور انہی نیکیوں کے ساتھ وہ جوان ہوتے ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔” اولا د کا فتنہ بھی بہت سخت ہوتا ہے۔اکثر لوگ مجھے گھبرا کر خط لکھتے رہتے ہیں کہ آپ دعا کریں کہ میری اولا د ہو۔اولاد کا فتنہ ایسا سخت ہے کہ بعض نادان اولاد کے مرجانے کے سبب دہر یہ ہو جاتے ہیں۔بعض جگہ اولا د انسان کو ایسی عزیز ہوتی ہے کہ وہ اس کے واسطے خدا تعالیٰ کا شریک بن جاتی ہے۔بعض بچے چھوٹی عمر میں مر جاتے ہیں تو وہ ماں باپ کے واسطے سلب ایمان کا موجب ہو جاتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں:۔( ملفوظات جلد پنجم۔جدید ایڈیشن صفحہ 415-416) ”ہم نے تو اپنی اولا دو غیرہ کا پہلے ہی سے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ یہ سب خدا تعالیٰ کا مال ہے اور ہمارا اس میں کچھ تعلق نہیں اور ہم بھی خدا تعالیٰ کا مال ہیں۔جنہوں نے پہلے ہی سے فیصلہ کیا ہوتا ہے ان کو غم نہیں ہوا کرتا“۔پھر فرماتے ہیں:۔( ملفوظات۔جلد نہم۔صفحہ 409) دین کی جڑ اس میں ہے کہ ہر امر میں خدا تعالیٰ کو مقدم رکھو۔دراصل ہم تو خدا کے ہیں اور خدا ہمارا ہے اور کسی سے ہم کو کیا غرض ہے۔ایک نہیں کروڑ اولا دمر جائے پر خدا راضی رہے تو کوئی غم کی بات نہیں۔اگر اولا د زندہ بھی رہے تو بغیر خدا کے فضل کے وہ بھی موجب ابتلا ہو جاتی ہے۔بعض آدمی اولاد کی وجہ سے جیل خانوں میں جاتے ہیں۔شیخ سعدی علیہ الرحمہ