مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 696 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 696

696 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم اس روایت میں کئی ایسی باتیں ہیں جو ہمارے لئے نصیحت ہیں۔ایک تو یہ کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے اس بچے کو خود پکڑ کر مارا نہیں۔یہ بھی ایک بہت ہی ضروری عادت ہے۔کیونکہ اگر دوسرے کے بچے کو پکڑ کر مارا جائے تو اس سے بہت خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔بہت بڑے فسادات کی جڑ یہ بیماری ہے۔کسی بچے کو شرارت کرتے دیکھا تو بجائے اس کے کہ اس کے ماں باپ تک بات پہنچائیں ،اس وقت پیار سے روک دیں خود ہاتھ اٹھا لیتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں بڑے بڑے فسادات بر پا ہو جاتے ہیں۔تو صحابہ کی یہ عادت نہیں تھی۔جانتے تھے کہ کون بچہ ہے لیکن اس کی شکایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بڑے پیار سے اس سے پوچھا تو اس کے اس جواب پر کہ میں کھجور میں کھا سکوں اس لئے کرتا ہوں، آپ نے فرمایا پھر نہ مارو۔جو خود بخود نیچے گر جائے اس کو کھا لیا کرو۔اب بظاہر اس روایت کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض روایات سے ایک تضاد سا دکھائی دیتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ پھل اگر گر بھی جائے تو مالک کی اجازت کے بغیر نہیں کھانا اور اس میں ہے کہ وہ کھا لیا کرو۔دراصل یہ بات لوگ بھول جاتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو سب صحابہ مالک ہی سمجھتے تھے اور آپ کا اجازت دینا ان سب کا اجازت دینا تھا۔یہ ناممکن تھا کہ حضور کے لفظ کوسن کر وہ فدا نہ ہوں اور اپنا ہی معاملہ سمجھیں۔پس اس بچے کو جو اجازت دی گئی یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی اپنے صحابہ پر کتنا اعتماد تھا۔جانتے تھے کہ یہ مجھ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں اور مجھے باپ سے بھی بڑھ کر سمجھتے تھے۔ایک روایت صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام سے لی گئی ہے۔حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ایک ٹیلے پر کھڑے ہوکر جھانکا اور فرمایا: کیا تم وہ دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں؟ میں تو دیکھ رہا ہوں کہ فتنے تمہارے گھروں میں بارش کی طرح گر رہے ہیں۔ایک انسان اونچی جگہ کھڑا ہو تو وہ زیادہ دور تک دیکھ سکتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ٹیلے چڑھنا یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم آنے والی نسلوں کو بھی دیکھ رہے تھے۔یعنی آپ کی نگاہ دور دور تک پھیلی ہوئی تھی اور یہ بنیادی حکمت کی بات ہے۔یہ نظر انداز نہیں کرنی چاہیے۔ورنہ اس حدیث کی سمجھ نہیں آئے گی اور یوں لگے گا جیسے صحابہ پر فتنے نازل ہورہے تھے اور ان کے گھروں میں بارش کی طرح گر رہے تھے۔ہرگز نہیں۔مراد یہ ہے کہ آئندہ ایسی نسلیں آنے والی ہیں جن کو اپنے بچوں کی صحیح تربیت کی توفیق نہیں ملے گی۔ان پر بارش کی طرح فتنے نازل ہوں گے اور یہ حدیث آج کل اطلاق پارہی